- الإعلانات -

فلپائنی صدر دوتیرتے کے بیان پر یہودی رہنماؤں کا شدید ردِ عمل

یہودی رہنماؤں نے فلپائن کے صدر رودریگو دوتیرتے کے اس بیان کے خلاف سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے جس میں انھوں نے منشیات فروشوں کے خلاف اپنی مہم کو ہولوکاسٹ سے تعبیر کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ یہ بیان، جس میں نازی جرمنوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے یہودیوں کی غلط تعداد بتائی گئی تھی، بےرحمانہ اور انتہائی اشتعال انگیز ہے۔

صدر دوتیرتے نے کہا تھا کہ منشیات فروشوں کے خلاف مہم کے دوران اتنے نشہ کرنے والوں کو مار ڈالیں گے جتنے ہٹلر نے یہودی مارے تھے۔

‘ہٹلر نے 30 لاکھ یہودی مارے تھے۔۔۔ ہمارے ہاں 30 لاکھ نشئی ہیں۔ مجھے ان کا قتلِ عام کر کے خوشی ہو گی۔’

عالمی یہودی کانگریس کے صدر رونلڈ ایس لاڈر نے کہا کہ ‘جو صدر دوتیرتے نے کہا ہے وہ نہ صرف انتہائی بےرحمانہ ہے، بلکہ اس سے انسانی زندگی کی شدید بےحرمتی بھی ظاہر ہوتی ہے۔’ انھوں نے دوتیرتے سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

امریکہ میں قائم یہودی تنظیم ایٹی ڈیفیمیشن لیگ نے کہا ہے کہ یہ بیان ‘نامناسب اور سخت اشتعال انگیز ہے۔’

صدر دوتیرتے نے جون میں اقتدار میں آنے کے بعد سے منشیات کے خلاف خونریز مہم شروع کر رکھی ہے، جس میں اب تک تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

انھوں نے یہ باتیں داواؤ شہر ایک تقریر کے دوران کہیں۔ اس شہر کے میئر پر الزام ہے کہ انھوں نے مجرموں کو قتل کرنے کے لیے ڈیتھ سکواڈ بنا رکھے ہیں۔

دوتیرتے نے 30 لاکھ یہودیوں کے قتلِ عام کا ذکر کیا تھا، تاہم یہ تعداد بھی غلط ہے۔ ہٹلر نے ہولوکاسٹ کے دوران دراصل 60 لاکھ کے قریب یہودیوں اور دوسری اقلیتوں کا قتلِ عام کیا تھا۔

دوسری طرح فلپائن میں بھی 30 لاکھ نہیں بلکہ 18 لاکھ کے قریب نشئی ہیں۔

فلپائنی صدر نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ ‘جرمنوں کے پاس ہٹلر تھا، فلپائن کے پاس۔۔۔’ اس کے بعد انھوں نے اپنی طرف اشارہ کیا۔

انھوں نے اسی تقریر میں مغربی ملکوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا: ‘تم امریکہ اور یورپ، تم مجھے جو مرضی کہو۔ لیکن میں تمھاری طرح منافق نہیں ہوں۔