- الإعلانات -

ملکی زر مبادلہ کے ذخائر ساڑھے 18ارب ڈالر تک پہنچ گئے.

ود ہولڈنگ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں پر ہے، ملکی معیشت کی بہتری کے لئے ابھی بہت کام باقی ہے،حکومتی اصلاحات کی بدولت معاشی ترقی کے انتہائی مثبت اشارے سامنے آئے
معاشی ترقی کےلئے تاجر برادری کا کردار اہم ہے،2 سال میں ٹیکس کی شرح 9 سے بڑھ کر11فیصد ہو گئی ، 2017 تک 10ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرینگے،مہنگائی کی شرح2 فےصد سے کم ہے
راولپنڈی چیمبرزآف کامرس کے عہدیدارانتہائی محنتی ہیں،تاجربرادری کو ودہولڈنگ ٹیکس سمیت تمام مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی دعوت دیتاہوں،آرسی سی کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد (عزیر احمد خان )وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 2018ءکا پاکستان روشن اور ترقیافتہ پاکستان ہو گا آج ہمارے وطن عزیز کی معیشت مضبوط ہے ہمیں مزید محنت کرنا ہو گی۔ہمارے ریزرو 18.5ارب روپے ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور انشاءاللہ 21ارب تک لے کر جائیں گے وہ گزشتہ روز راولپنڈی میں چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام ایوارڈز کی تقریب سے خطا ب کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب پر ہم ایک خطیر رقم خرچ کر رہے ہیں وقت آ گیا ہے ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ملک کو کہاں لے کر جانا ہے ۔آج دنیا بھر میں اعتراف کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی معیشت بہتر ہورہی ہے بیرونی سرمایہ کار آ رہے ہیں موڈیز کی ریکارڈ پاکستان کے حوالے سے مثبت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس ان پر عائد ہوتا ہے جو ٹیکس نہیں دیتے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ود ہولڈنگ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں پر ہے، ملکی زر مبادلہکے ذخائر ساڑھے 18ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، ملکی معیشت کی بہتری کےلئے ابھی بہت کام باقی ہے، معاشی ترقی اور استحکام کےلئے تاجر برادری کا کردار اہم ہے، تاجر آئیں ان کے مسائل حل کریں گے۔ وہ جمعرات کو راولپنڈی چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس صرف ان لوگوں پر ہے جو ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے ، ان لوگوں کےلئے نہیں جو گوشوارے جمع کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کہتی تھی کہ 2014ءمیں پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا، تمام مالیاتی اداروں نے پاکستان کے ساتھ کام بند کر دیا تھا لیکن (ن) لیگ کے منشور میں معاشی ترقی کا باب شامل ہے، اب تمام مالیاتی ادارے پاکستان کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اصلاحات کی بدولت معاشی ترقی کے مثبت اشارے سامنے آئے۔ عالمی اداروں کے مطابق پاکستان کی معیشت میں استحکام آیا ہے،مہنگائی کی شرح دو فےصد سے کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری کےلئے ابھی بہت کام باقی ہے، زر مبادلہ کے ذخائر ساڑھے 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں اور یہ ذخائر رواں سال 21 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی اور استحکام کےلئے تاجر برادری کا کردار اہم ہے، حکومت نے اصلاحات کےلئے مشکل فیصلے کئے،3اسٹاک ایکسچینجز کو یکجا کیا ہے اور 4 کی بجائے 2سال میں معیشت کو مستحکم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کسان پیکج کے ثمرات براہ راست کسانوں تک پہنچیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ دو سال میں ٹیکس کی شرح 9 سے بڑھ کر11فیصد ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم کے صوابدید فنڈز ختم کر دیئے گئے ہیں، 2017 تک 10ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کریں گے۔