- الإعلانات -

احمد پر اعزازات کی بارش، وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت

آسٹن، ٹیکساس: ٹیکساس میں سائنس پروجیکٹ بنانے والا بم کے مغالطے میں گرفتار مسلمان طالبعلم احمد محمد کو امریکی صدر براک اوباما نے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔ امریکی اسکول میں زیر تعلیم نوعمر لڑکے احمد محمد کے والدین کا تعلق سوڈان سے ہے، گزشتہ روز اس ذہین طالب علم نے اپنے اسکول کے لیے ایک پروجیکٹ تیار کیا تھا جو گھڑی کی صورت میں تھا جب کہ اسکول انتظامیہ نے اس گھڑی کو بم سمجھتے ہوئے پولیس کو طلب کیا اور طالب علم کو پولیس کی حراست میں دے دیا گیا۔ نوعمر طالبعلم کی ناسا کی ٹی شرٹ پہنے ہتھکڑی لگی تصاویر نے امریکا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑادی اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے علاوہ اس طالب علم کی حمایت میں#IStandWithAhmed کا ہیش ٹیگ مقبولیت حاصل کررہا ہے جس پر اساتذہ، عوام، سائنسدانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسکول انتظامیہ اور پولیس کو شدید نتقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکا میں مسلمانوں کی کونسل نے اس واقعے کو مسلمانوں سے نفرت اور خوف کی ایک مثال قرار دیا ہے اور اب تک اس طالب علم سے وابستہ 10 لاکھ ٹویٹس کیے جاچکے ہیں اور لوگوں نے احمد کی حمایت میں وال کلاک لے کر تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ امریکی صدراوباما نے احمد کو ٹوئٹ کے ذریعے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے، اپنی ٹوئٹ میں امریکی صدر نے طالب علم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ ’’ بہت اچھی گھڑی ہے، احمد۔ کیا اسے وائٹ ہاؤس لانا چاہیں گے؟ ہمیں آپ جیسے دوسرے بچوں کو حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو سائنس پڑھ رہے ہیں، اس سے امریکا کو عظیم بنایا جاسکتا ہے‘‘۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان ارنسٹ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ احمد محمد کو اگلے ماہ ناسا کے خلانوردوں کے اعزاز میں ہونے والی ایک تقریب میں مدعو کیاگیا ہے۔ احمد نے بھی صدر اوباما کی دعوت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ماہ وہ وائٹ ہاؤس جائیں گے۔ احمد کا کہنا تھا اس کے اسکول ٹیچر الیکٹرانک کلاک کو نہ سمجھ سکے اور اسے بم تصور کرنے لگے اور پولیس کو بلاکر انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ احمد نے بتایا کہ وہ فارغ اوقات میں مختلف اشیا بناتے رہتے ہیں ۔ احمد پر اعزازات کی بارش: فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے احمد محمد کو فیس بک کے ہیڈ کوارٹرمدعو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی چیز بنانے کی مہارت اور عزم کی پذیرائی کرنی چاہیے ناکہ ہتھکڑی پہنائی جانی چاہیے۔ ناسا کے خلانورد ڈینیئل ٹینی نے انہیں خلا میں پہنی جانے والی ٹی شرٹ تحفے میں دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلاس کے الیکٹرانک کلب نے انہیں تاحیات رکنیت دینے کا اعلان کیا ہے جب کہ جنرل الیکٹرک نے بھی انہیں اپنے ادارے کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ احمد کو ناسا کے سائنس کیمپ میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی ہے جب کہ ایک شخص نے احمد کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر کی اسکالرشپ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اسکول کو خیرباد کہہ کر دوسرا اسکول منتخب کرلیں۔ پولیس کے مطابق ڈجیٹل کلاک کے ڈسپلے باکس کو غلطی سے بم سمجھ لیا گیا تھا تاہم پولیس ترجمان جیمز مکلیلن نے کہا کہ اس معاملے میں احمد کے مذہب کا کوئی تعلق نہیں اور اب ان کا کیس بند کردیا گیا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے کہا کہ پروجیکٹ تیار کرتے ہوئے کہ احمد اس کی وضاحت نہیں کرسکے اور اس پر شک کا گمان ہوا تھا۔