- الإعلانات -

واشنگٹن یونیورسٹی میں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوسرا مباحثہ

امریکہ میں صدارتی امیدواروں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دوسرا مباحثہ واشنگٹن یونیورسٹی میں ہوا جس میں ہلیری کلنٹن کی ای میلز، شام و عراق کے متعلق امریکی پالیسی،امریکی معیشت اور ذاتی کردار پر بات چیت کی گئی۔

مباحثے کے آغاز سے کچھ ہی دیر قبل ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر اور ٹرمپ کے مدِ مقابل ہلیری کلنٹن کے شوہر، بل کلنٹن پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی خواتین کے ساتھ مل کر ایک پریس کانفرنس کی۔

مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے ایک بار پھر ایک دوسرے کو جھوٹا اور غیر حقیقت پسند کہتے ہوئے صدارت کے لیے غیر موضوع قرار دیا۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنی ویڈیو ٹیپ کے بارے میں ’فخر‘ محسوس نہیں کرتے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں بل کلنٹن سے زیادہ خواتین کی توہین کسی نے نہیں کی۔

ہلیری کلنٹن نے اپنے شوہر کے بارے میں کی جانے والی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم یہ ضرور کہا کہ ’ہم نے جمعے کو جو دیکھا اور سنا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کون ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘صرف خواتین کی توہین کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھتا ہے بلکہ ڈونلڈ کی جانب سے افریقی نژاد امریکیوں، تارکینِ وطن اور مسلمانوں سمیت دیگر طبقوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے اٹھتا ہے۔’

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمان شدت پسندی کے بارے میں متعلقہ اداروں کو بروقت اطلاع دیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بحث کے دوران ہلیری کلنٹن کی جانب سے ای میلز کے لیے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے استعمال پر بھی شدید تنقید کی۔

ہلیری کلنٹن نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ذاتی ای میلز کا استعمال ایک ’غلطی‘ تھی تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں جن کے ذریعے یہ ثابت ہو کہ خفیہ معلومات غلط ہاتھوں تک پہنچ گئی تھیں۔

مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر تعینات کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو ہلیری کلنٹن جیل میں ہوتیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 18 سال سے فیڈرل ٹیکس ادا نہیں کیا۔

جب دونوں صدارتی امیدواروں سے پوچھا گیا کہ وہ اگر صدر ہوتے تو شام کے حوالے سے ان کی پالیسی کیا ہوتی تو اس کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ شام میں امریکہ کی زمینی فوج بھجوانے کے حق میں نہیں جبکہ ٹرمپ نے صدر اوباما کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ باغیوں کی حمایت غط اقدام ہے۔

تاہم انھوں نے ملٹری پالیسی سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دینے سے انکار کیا۔

مباحثے کے اختتام پر جب ٹرمپ اور ہلیری سے جب یہ کہا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں کچھ مثبت بات کریں تو ہلیری نے ٹرمپ کے بچوں کی تعریف جبکہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہلیری کبھی بھی ہارتی نہیں اور جدوجہد کرتیں ہیں۔

اس سے قبل چار خواتین کے ہمراہ کی جانے والی ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کو فیس بک پر براہِ راست نشر کیا گیا۔ ان میں سے تین بل کلنٹن پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ سابق صدر نے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور ایک چوتھی خاتون وہ ہیں جن کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کا ہلیری کلنٹن نے دفاع کیا تھا۔

ہلری کلنٹن نے اس پریس کانفرنس کو بے چارگی کا اقدام قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ اسی ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کی خواتین کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وہ شدید مشکلات میں ہیں اور رپبلکن پارٹی کے ایک درجن کے قریب سینیئر رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔

جمعے کو سامنے آنے والی اس ویڈیو کے بعد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے وال سٹریٹ جنرل کو ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے صدراتی دوڑ کو چھوڑنے کا امکان صفر فیصد ہے اور انھیں ہر طرف سے بے پناہ حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر عورتوں کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ریپلکن پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے خواتین کے بارے میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے نازیبا بیانات کی مذمت کی ہے۔

ان کی حمایت سے دستبرداری اختیار کرنے والوں میں رپبلکن پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار جان مکین اور سابق امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس سمیت 33 رہنما شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سنہ 2005 کا ہے جس کی ویڈیو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں جاری کی ہے۔

اس ویڈیو ٹیپ میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹی وی کے میزبان بلی بش کو یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ ‘اگر آپ سٹار ہیں تو’ خواتین کے ساتھ ‘آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’

بعد میں معذرتی ویڈیو میں ٹرمپ نے کہا: ‘میں نے ایسی باتیں کہی اور کی ہیں جن پر مجھے افسوس ہے۔ جو کوئی مجھے جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ یہ الفاظ میری شخصیت کی عکاسی نہیں کرتے۔ میں نے یہ باتیں کہی ہیں، میں غلط تھا اور میں معافی مانگتا ہوں۔’