- الإعلانات -

پشاور حملے میں 16 نمازی اور کیپٹن اسفند یار شہید ،10 فوجی زخمی.

پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے قریب انقلاب روڈ پر پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے بڈھ بیر کیمپ پر مسلح دہشت گردوں نے حملہ کیا، سیکیورٹی فورسز سے مقابلے میں 13 حملہ آور ہلاک ہوئے۔

فوج کے محکمہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا کہ پشاور کے قریب پاک فضائیہ کے بڈھ بیر کیمپ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

حملہ آور دہشت گردوں نے کیمپ میں موجود مسجد میں نماز پڑھنے والے افراد پر فائرنگ کی جس سے 16 افراد ہلاک ہوئے، پاکستان ائیر فورس کے 2 ٹیکنیشن اور ایک نامعلوم شخص بھی دہشت گردوں کا نشانہ بنے جبکہ فوج کے آپریشن میں ایک کیپٹن اسفند یار بھی ہلاک ہوئے ، 10 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

بڈھ بیر حملہ، کیا کیا ہوا؟
دہشت گردوں نے صبح 6 بجے کے قریب حملہ کیا۔

حملہ آور ایف سی کی وردی میں کیمپ میں داخل ہوئے۔

مسجد میں نماز پڑھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا جس سے 20 افراد ہلاک ہوئے۔

فوج کی کوئیک رسپانس فورس نے فوری ایکشن لے کر جوابی کارروائی کی۔

کور کمانڈر پشاور کارروائی کی نگرانی کے لیے بڈھ بیر کیمپ پہنچے۔

کارروائی کے دوران 13 دہشت گرد جبکہ کوئیک رسپانس فورس کے ایک کیپٹن ہلاک ہوئے۔

زخمیوں میں فوج کے 2 افسران سمیت 10 اہلکار شامل۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

وزیر اعظم نواز شریف کی حملے کی مذمت۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے پشاور پہنچے اور پاک فضائیہ کے سربراہ سہیل امان کے ہمراہ سی ایم ایچ پشاور میں زخمیوں کی عیادت کی.

جنرل راحیل شریف اور ائیر چیف مارشل سہیل امان نے بڈھ بیر کیمپ کا دورہ کیا اور آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں سے ملاقات کی.

ابتدائی طور پر حملہ آوروں کی تعداد 7 سے 10 کے درمیان بتائی گئی تھی۔

ڈان نیوز کے مطابق آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ دہشت گرد کیمپ میں دو مقامات سے داخل ہوئے، کیمپ میں داخل ہو کر وہ کئی گروپس میں تقسیم ہوئے۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ایک گروپ نے مسجد میں داخل ہو کر 16 نمازی شہید کیے، تمام افراد نماز فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ دہشت گردوں کو بروقت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، بروقت کارروائی کے باعث دہشت گرد آگے نہ بڑھ سکے۔

حملہ آور دہشت گردوں نے سیکیورٹی اداروں کو دھوکا دینے کے لیے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی وردی پہنی ہوئی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے کانسٹیبلری کی وردی پہن رکھی تھی۔

ڈان نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی عمریں 17 سے 24 سال کے درمیان تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ حملہ آور 2 گاڑیوں میں سوار ہو کر آئے جن میں سے ایک گاڑی کو تحویل میں لے لیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بڈھ بیر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے پی اے ایف کیمپ پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو ہلاک کردیا.

آپریشن کے ساتھ ساتھ بڈھ بیر کیمپ کے اندر اور اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس میں متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

آئی ایس پی آر نے واقعے میں زخمیوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے حملے میں کوئیک رسپانس فورس کے میجر حسیب سمیت دیگر اہلکار فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوئے.

آپریشن کے دوران فوج کی کوئیک رسپانس فورس کے کیپٹن ہلاک ہوئے جن کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کیپٹن اسفندیار فرنٹ لائن پر اپنے جوانوں کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے نشانہ بنے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ کیپٹن اسفند یار 14 اگست 1988 کو پیدا ہوئے تھے، کیپٹن اسفند یار کو لانگ کورس میں شمشیر سے نوازا گیا تھا۔

پاک فضائیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایئر فورس کے 3 جونیئر ٹیکنیشن بڈھ بیر حملے میں ہلاک ہوئے، ہلاک ہونے والوں میں جونیئر ٹیکنیشن شان علی، ثاقب جاوید اور طارق عباس شامل ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ شان علی اور طارق عباس گارڈ روم میں تعینات تھے انہوں نے سب سے پہلے حملہ آور دہشت گردوں سے مقابلہ کیا تھا۔

فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ممکنہ دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے کیمپ میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ کور کمانڈر پشاور بھی بڈھ بیر کیمپ پہنچے اور آپریشن کی نگرانی خود کرتے رہے۔

اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا تھا کہ دہشت گردوں نے علی الصبح کیمپ کے گارڈ روم پر حملہ کیا تاہم فوج کی کوئیک رسپانس فورس نے موقع پر پہنچ کر ان دہشت گردوں کو گھیر کر گارڈ روم کے قریب ہی روک لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملے کے مقام کی فوری طور پر فضائی نگرانی بھی شروع کر دی گئی جبکہ اسٹریٹجک اثاثوں کے حوالےسے بتایا کہ تمام اثاثے محفوظ ہیں.

کیمپ کے اندرونی مناظر
’’طالبان نے ذمہ داری قبول کرلی’’
دوسری جانب پشاور میں بڈھ بیر ائیر فورس کیمپ پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ، کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے ایک ای میل کے ذریعے صحافیوں کو حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق مطلع کیا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں نے جہاں حملہ کیا ہے یہاں ائیر فورس کے افسران اور اہلکاروں کی رہائش گاہیں موجود ہیں۔

وزیر اعظم کی مذمت
وزیر اعظم نواز شریف نے پشاور میں پی اے ایف کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا بہت جلد خاتمہ کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ایئر بیس پر حملے کی شدید مذمت کی۔

وزیر اعلیٰ نے پشاور کے اسپتالوں کو زخمیوں کے فوری اور ہر ممکن علاج کا حکم بھی جاری کیا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے پی اے ایف کیمپ کا دورہ کیا۔

میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حملہ قابل مذمت ہے، پولیس نے حملے کے فوری بعد ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

مشتاق غنی نے مزید کہا کہ حملہ آوروں کی تعداد 7 سے 10 تھی، تمام دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاع ملی، دہشت گرد بیس تک جانا چاہتے تھے، فوج نے سازش ناکام بنا دی، دہشت گرد ختم ہورہے ہیں اسی لیے ایک اور ناکام حملہ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کی پیشگی اطلاع موجود تھی اور حساس اداروں نے 31 اگست کو سیکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا.

خیال رہے کہ پاک فوج نے 10 جون 2014 کو کراچی ائیر پورٹ حملے کے بعد شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔

آپریشن ضرب عضب میں کامیابی سے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا گیا جبکہ خیبر ایجنسی میں اکتوبر میں آپریشن خیبر – ون شروع ہوا جس میں شمالی وزیرستان سے فرار ہو کر خیبر ایجنسی آنے والے عسکریت پسندوں کا خاتمہ کیا گیا۔

آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبر-ون میں بڑے پیمانے پر نقصان ہونے کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا اس حملے میں 130 سے زائد بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوئے۔

آرمی پبلک اسکول پر حملے میں بچوں کی ہلاک کے بعد نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا جس کے تحت آئین میں ترمیم کرکے فوجی عدالتیں قائم کی گئی جبکہ 6 سال سے سزائے موت پر غیر اعلانیہ طور پر عائد پابندی ختم کرکے پھانسیاں دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

پشاور میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچوں کے قتل کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف بہت زیادہ تیزی سے کارروائیاں کی گئیں، اسی وجہ سے خود کش حملوں میں کمی آئی جبکہ دہشت گردی کے بڑے واقعات بھی گزشتہ برسوں کی بہ نسبت کم ہوئے۔

رواں برس 31 جنوری کو شکار پور میں خود کش دھماکا کیا گیا تھا جس میں 60 افراد مارے گئے تھے جبکہ اس کے بعد 14 فروری کو پشاور میں ہی ایک امام بارگاہ پر خود کش حملے میں 22 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

گزشتہ ماہ 17 اگست کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحد پر واقع شہر اٹک میں وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ پر خود کش حملہ کر کے ان کو ہلاک کیا گیا اس حملے میں 17 دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے بڈھ بیر حملے سے قبل بھی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

فوج کے ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) پر 10 اکتوبر 2009 کو حملہ کیا تھا جس میں 11 فوجی اور 9 حملہ آور ہلاک ہوئے تھے جبکہ جی ایچ کیو حملے کے ماسٹر مائنڈ کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

30 اکتوبر 2009 کو کامرہ ائیر بیس پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں 8 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کامرہ ائیر بیس پر ہی 16 اگست 2012 کو دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں 10 حملہ آور مارے گئے تھے۔

22 مئی 2011 کو کراچی میں نیوی کے مہران ائیر بیس ہر حملہ کیا گیا جس میں پی تھری سی اورین طیارے بھی تباہ کیے گئے، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں 4 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے، آپریشن میں 18 اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

گزشتہ سال 6 ستمبر 2014 کو کراچی میں ڈاکیارڈ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا حملے میں مبینہ طور پر نیوی کے اہلکار بھی دہشت گردوں سے ملے ہوئے تھے جبکہ آپریشن میں ایک نیوی افسر اور 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔