- الإعلانات -

عراقی شہر موصل کی جانب فوج کی پیش رفت ’توقع سے تیز‘

امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراقی شہر موصل کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے آزاد کروانے کی لڑائی کے آغاز کے پہلے روز عراقی فوج نے توقعات سے تیز پیش قدمی کی ہے۔

تاہم پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کُک نے خبردار کیا کہ اس کارروائی میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا تھا کہ موصل سے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کا قبضہ ختم کروانے کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

موصل عراق میں دولتِ اسلامیہ کا آخری گڑھ ہے اور اس کے شدت پسندوں نے سنہ 2014 میں شہر پر قبضہ کیا تھا۔

تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی نے اس کے بعد موصل کے شہر سے ہی اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا جس کی علامتی اہمیت ہے۔

موصل کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور پیر کی صبح عراقی توپخانے نے موصل پر گولہ باری کا آغاز کیا جس کے ساتھ ہی اس جنگ کا آغاز ہوگیا۔

جس میں عراقی اور اتحادی افواج اور کرد پیشمرگاہ کے 30 ہزار جوان حصہ لے رہے ہیں۔

گولہ باری کے ساتھ ساتھ ٹینکوں نے بھی موصل کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

موصل میں کارروائی کے آغاز پر اقوامِ متحدہ نے شہر میں محصور 15 لاکھ افراد کے تحفظ کے حوالے سے ‘شدید خدشات’ کا اظہار کیا ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ موصل پر عراقی افواج کا دوبارہ قبضہ ہونا درحقیقت عراق میں دولتِ اسلامیہ کی مکمل شکست کے مترادف ہوگا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ موصل میں دولت اسلامیہ کے تقریباً 4000 سے 8000 جنگجو ہیں۔

اس کارروائی میں مدد کرنے والے امریکی کمانڈر جنرل سٹیفن ٹاؤنسینڈ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ مشکل ہوگی اور اس کی تکمیل میں کئی ہفتے لگیں گے۔