- الإعلانات -

امریکا، تیسرا اور آخری مباحثہ بھی ہلیری نے جیت لیا

امریکا کے صدارتی امیدواروں کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ بھی ہلیری کلنٹن نے جیت لیا ۔امریکی میڈیا سروے کے مطابق ہلیری کو باون فیصد اور ٹرمپ کو انتالیس فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے۔

امریکا کے صدارتی انتخاب میں دونوں امیدواروں کے درمیان یہ تیسرا اور آخری مباحثہ تھاجس میں دونوں امیدواروں نے پھر ہاتھ نہیں ملائے ۔

امریکی صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل دونوں امیدواروںکے درمیان آخری مباحثے میں اسقاط حمل، گن رائٹس اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر گرما گرم بحث ہوئی ہے۔

ٹرمپ نے امریکا کے انتخابی عمل پر سوالیہ نشان اٹھا دیا اور کہا کہ نتیجہ آنے کے بعد دیکھوں گا انتخابات کو ماننا ہے یا نہیں۔ری پبلکن صدارتی امیدوار کا کہنا ہے کہ امریکا کو اب سعودی عرب ،کوریا اور دیگر ملکوں کی حفاظت کرنا بند کردینا چاہیے۔

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کا کہنا ہے ڈونلڈ ٹرمپ ایٹمی ہتھیار چلانے کے حامی ہیں،اسی لیے ایٹمی ذمہ داری رکھنے والے دس میں سے کسی ایک سابق امریکی صدر نے ان کی حمایت نہیں کی۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ٹرمپ تو امریکی جمہوریت کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے،ٹرمپ کو روسی صدر پیوٹن کی حمایت حاصل ہے، روس امریکا کے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے،آج تک کسی ملک نے امریکا کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔ روس سائبر حملے کرکے وکی لیکس کے ذریعے امریکا کی خفیہ معلومات انٹرنیٹ پر فراہم کرتا ہے تاکہ وہ امریکی انتخابات پر اثر انداز ہوسکے۔

ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں روسی صدر پیوٹن کو نہیں جانتا، ہلیری کلنٹن اسٹیبلشمنٹ کی امیدوار ہیں، ایف بی آئی اور سرکاری ادارے ہلیری کے خلاف کارروائی نہیں کر رہے،ہلیری کی انتخابی مہم میں ٹیکس دینے والوں کا پیسہ استعمال ہو رہا ہے۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ اگر وہ صدر بنیں تو وہ ملک کا قرضہ ختم کردیں گی۔اس مقصد کے لیے وہ عوام پر سرمایہ کاری کریں گی۔

ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہےکہ اوباما انتظامیہ نے لاکھوں لوگوں کو امریکا سے بے دخل کیا ہے۔میں تارکین وطن کے خلاف نہیں،غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ہوں ۔

ٹرمپ کا کہنا تھا ان کی ریلی میں احتجاج کرنے والوں کو ہلیری اور صدر اوباما نے پندرہ سو ڈالرز دیئے، ان پر جنسی حملوں کا الزام لگانے والی خواتین سے وہ کبھی بھی نہیں ملے۔