- الإعلانات -

چیف جسٹس نے وزیر اعظم نواز شریف اور فریقین کو نوٹسسز جاری کرلیا

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کی تحقیقات سے متعلق تحریک انصاف ،جماعت اسلامی، شیخ رشید کی درخواستوں پر وزیر اعظم نواز شریف ،چیئرمین نیب ،مریم نواز ،حسن نواز ،حسین نواز ،وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور چیئرمین ایف بی آر سمیت فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔

پانامہ لیکس کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی، جماعت اسلامی کے وکیل نے بتایا کہ امیر جماعت اسلامی کی درخواست میں پانامہ لیکس کی بلا امتیاز تحقیقات کی استدعا کی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فریقین کو نوٹسسز جاری کرتے ہیں، تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اپریل میں پانامہ لیکس کا معاملہ سامنے آیا، پانامہ لیکس میں وزیراعظم اور اُنکے اہل خانہ کا نام آیا، آئس لینڈ کے وزیراعظم پانامہ لیکس میں نام آنے پر مستعفی ہوگئے، پانامہ لیکس کے انکشاف کے بعد وزیراعظم نے دو مرتبہ قوم سے خطاب کیا اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا لیکن ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے پوچھا کہ آپ عدالت سے کیا ریلیف چاہتے ہیں، تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ ہم پانامہ لیکس اسکینڈل کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں ،حج کرپشن اور پاکستان اسٹیل ملز کرپشن کیس میں انکوائری کرکے ذمہ داران کے تعین کرنے کی مثال موجود ہے