- الإعلانات -

حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے ایک میزائل کو مکہ کے قریب مار گرایا,اسلامی ممالک کی مذمت

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کر رہی سعودی عرب کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے ایک میزائل کو مکہ کے قریب مار گرایا ہے۔

دوسری جانب باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ مکرمہ کے بجائے بحیرۃ احمر کے کنارے آباد شہر جدہ کو نشانہ بنایا تھا۔

یہ پہلی بار ہے جب یمن کے باغیوں نے اپنے اسلحے میں سے سب سے زیادہ دور مار کرنے والے میزائل کا استعمال کیا ہے۔

پاکستان، متحدہ عرب امارت، کویت اور سوڈان سمیت دنیا کے کئی مسلم ممالک اور مسلم اداروں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زیاد النہیان نے اس حملے پر ایران کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ سعودی کمان میں جاری اتحادی افواج نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف مارچ 2015 میں فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

اتحادی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘حوثی باغیوں نے جمعرات کو اپنے مضبوط گڑھ سعدہ سے میزائل داغے تھے جسے سعودی عرب کے پیٹریٹ میزائل کے ذریعے مار گرایا ہے۔’

بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘فضائی دفاع اسے روکنے میں کامیاب رہا اور بغیر کسی نقصان کے اسے مکہ سے 65 کلومیٹر کے فاصلے پر ناکام بنا دیا گيا۔’

چھ ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے یہ باغیوں کی جانب سے اس بات کا ’واضح ثبوت‘ ہے کہ وہ یمن میں پونے دو سال سے جاری تصادم کا ’سیاسی حل‘ نہیں چاہتے۔

صبا نیوز نیٹ پر حوثی قبیلے کے ترجمان محمد عبدالسلام نے سعودی عرب پر ’سیاسی بکواس‘ کا الزام لگایا ہے۔

عبدالسلام نے کہا ’سعودی حکومت کا مکہ سے 65 کلومیٹر کے فاصلے پر میزائل کو ناکام کا دعویٰ غلط ہے۔ مکہ تمام یمنی عوام کے لیے مقدس اور قیمتی ہے اور مسلمان سعودی عرب کی میڈیا اور سیاسی بکواس کو مسترد کر دیں گے۔ یہ میزائل جدہ میں ان کے فوجی اڈے برکان1 کے لیے تھا۔‘

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام کو نشانہ بنانا پاکستانی حکومت اور عوام کے لیے شدید تشویش اور غصے کا باعث ہے۔

انھوں نے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خطے کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ’پاکستان کے لوگ حرمین شریفین کی حفاظت اور سعودی عرب کی سالمیت کے لیے سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘