- الإعلانات -

وزیراعظم کی زیرِ صدارت سول و عسکری قیادت کا اعلیٰ سطح اجلاس.

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیرِ صدارت سول و عسکری قیادت کے اعلیٰ سطح اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا.

اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر تجارت اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) میجر جنرل عامر ریاض اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس (ڈی جی ایم آئی) میجر جنرل ندیم بھی شریک ہوئے۔

ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال خصوصاً گذشتہ جمعے کو پاکستان ایئر فورس کے بڈھ بیر ایئر کیمپ پر ہونے والے حملے اور افغانستان کو حملے کے ثبوت دیئے جانے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

خیال رہے کہ پشاور کے قریب انقلاب روڈ پر پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے بڈھ بیر کیمپ پر مسلح دہشت گردوں کے حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 29 افراد ہلاک اور 29 زخمی ہو گئے جب کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 14 حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

اجلاس میں بارڈر مینیجمنٹ اسٹریٹیجی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے موثر اطلاق پر بھی غور کیا گیا۔

یاد رہے کہ پاکستان آرمی کے ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ پی اے ایف کیمپ پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور اسے وہیں سے کنٹرول کیا گیا۔بعد ازاں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پشاور حملے کی ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ دہشت گرد، حملے کے دوران افغانستان میں لوگوں سے رابطے میں تھے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے افغانستان میں ٹیلیفونک رابطے کے شواہد موجود ہیں اور چونکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی قیادت افغانستان میں ہے لہذا دہشت گردوں کے افغانستان میں رابطے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔دوسری جانب افغان حکومت نے اس بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا تھا۔

افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے ہفتہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اس عزم کو دہرایا گیا کہ کابل نے نہ تو کبھی کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے دی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونے دے گا۔