- الإعلانات -

ٹرمپ کیخلاف مظاہرے جاری،وائٹ ہائوس کی روشنیاں بند،جھڑپیں،3 اہلکار زخمی

نیویارک:ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف مظاہروں میں شدت کے بعد وائٹ ہاوس کی روشنیاں امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ گُل کر دی گئیں۔امریکیوں نے ٹولیوں کی شکل میں احتجاج کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکہ میں مظاہرے پھوٹ پڑے ، دوسرے روز بھی مظاہرین ٹولیوں کی شکل میں احتجاج کرتے رہے ، ایک دو مقامات پر پولیس سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملیں جس میں تین اہلکار زخمی ہوئے۔

مذہبی اقلیتوں اور تارکین وطن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور صدر قبول نہیں کیا ، سیاہ فام بھی نو منتخب صدر سے خائف ہیں ۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے باہر مظاہرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جس کی وجہ سے وائٹ ہاوس انتظامیہ کو پہلی مرتبہ روشنیاں بھجنا پڑیں۔

نیو یارک کے علاقے ہیٹن میں ٹرمپ کی رہائش گاہ کے باہر گزشتہ 3 روز سے مظاہرے ہو رہے ہیں ، مظاہرین کا نعرہ ہے کہ ٹرمپ میرا صدر نہیں۔

شکاگو میں ٹرمپ انٹرینشنل ہوٹل اینڈ ٹاور کے باہر بھی مظاہرین جمع ہیں جو ٹرمپ اور نسل پرستی کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں ، شکاگو میں پولیس نے سڑکیں بند کر کے مظاہرین کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔

فلاڈیلفیا، بوسٹن، سیاٹل، پورٹ لینڈ اور اوریگن میں بھی عوام سڑکوں پر ہیں ، سان فرانسسکو، لاس اینجلس ، ٹیکساس اور اوکلینڈ میں بھی ٹرمپ مخالف ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔

عالمی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہونے والے احتجاج غیر معمولی ہیں ، امریکی تاریخ میں منتخب صدر کے خلاف مظاہروں کی یہ مثال پہلے کبھی نہیں ملتی اگر احتجاج کا سلسلہ نہ تھما تو امریکی فیڈریشن بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو سویت یونین آخری صدر گوربا چوف سے بھی تشبیہ دی جا رہی ہے جن کے خلاف مظاہروں نے علیحدگی پسند تحریکوں کو ہوا دی اور دنیا کی ایک سپر پاور ٹکڑے ٹکرے ہوگئی۔