- الإعلانات -

آزادکشمیر میں عسکریت پسندوں کے تربیتی کیمپوں کی موجودگی کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں،بھارتی جنرل

سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں تعینات بھارتی فوج کے اعلیٰ افسر نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کے پاس سرحدپارکشمیر میں دراندازی یاآزادکشمیرمیں عسکریت پسندوں کے تربیتی کیمپوں کی موجودگی سے متعلق ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں اور 16ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جے سی او)لیفٹیننٹ جنرل آر آر نمبھورکر نے پاکستان اوربھارت کی افواج کے درمیان بریگیڈکمانڈرز سطح کی حالیہ فلیگ میٹنگ کومثبت قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اس میٹنگ کابنیادی مقصد غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا تھا، فریقین نے کنٹرو ل لائن پرامن قائم رکھنے کیلئے بہت سے اقدامات پر اتفاق کیاہے جنہیں جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔ منگل کو میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل آر آر نمبھورکر نے کہاکہ بریگیڈ کمانڈرز کی میٹنگ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی میں دونوں اطراف شہریوں کے جانی نقصان پر تحفظات کا اظہار کیاگیا اوراتفاق کیاگیاکہ دونوں جانب سے 2003ء کے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمدیقینی بنایاجائے گا ۔کنٹرول لائن پرامن برقراررکھنے کیلئے بہت سے اقدامات پراتفاق رائے ہواہے جنہیں جلدحتمی شکل دی جائے گی ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم فلیگ میٹنگ میں سخت پیغام دینے کی غرض سے شریک نہیں ہوئے بلکہ اس میٹنگ کا بنیادی مقصد مل بیٹھ کر سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں کے مسائل کو حل کرنا اورایک دوسرے کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا تھا میٹنگ خوشگوار ماحول میں ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں کنٹرول لائن کے قریب بسنے والے لوگوں کونہ صرف پرامن ماحول فراہم کرنا ہوگا اوررابطوں کے اس سلسلے کو مستقبل میں بھی جاری رکھنا ہوگا۔دراندازی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں بغیر کسی شواہد کے اس پر نہیں کرنا چاہتا نہ ہی اعداد و شمار دے سکتا ہوں ۔آزادکشمیر میں عسکریت پسندوں کے مبینہ کیمپوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ میں اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا ہمارے پاس اس سے متعلق کوئی اطلاعات نہیں جب ہمیں کوئی ٹھوس ثبوت ملے گا تواس وقت بات کریں گے ۔چینی فوج کے آزادکشمیر میں موجودگی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجھے اس کا علم نہیں ہے ،میں اس طرح کا سوال پہلی بار سن رہا ہوں ۔