- الإعلانات -

شامی متاثرین کی روداد نے کینیڈین وزیراعظم کو رُلا دیا

اٹاوہ: کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو شامی متاثرین سے ملاقات کے دوران ان کی روداد سن کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔

شام میں گزشتہ کئی سالوں سے خانہ جنگی جاری ہے جس کے باعث اب تک خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، لاکھوں افراد ہجرت پر مجبور ہیں اور سمندر کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی کوشش میں سیکڑوں افراد سمندر کی نذر ہوچکے ہیں۔ گزشتہ سال سمندر کنارے ملنے والی شامی بچے ایلان کردی کی لاش نے دنیا بھر کی عالمی طاقتوں کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔

ایسا ہی کچھ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ ہوا جو ٹی وی شو کے دوران شامی متاثرین کی داستان سن کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے، کینیڈین وزیراعظم سے گفتگو کے دوران شامی متاثرین کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے جہاز سے باہر قدم رکھا تو سب سے پہلے جس شخص سے انہوں نے ہاتھ ملایا وہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو تھے اور انہوں نے صرف دو الفاظ کہے ’’ ویلکم ہوم‘‘ اپنے ہی گھر میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

شامی متاثرین کا کہنا تھا کہ یہ الفاظ کسی ایسے شخص کے لیے جو اپنا گھر چھوڑ کر آرہا ہو، وہ بھی ایسا گھر جہاں جنگ جاری ہو بہت اہمیت رکھتے ہیں اور ان الفاظ کے بعد مجھے کینیڈا میں آنے پر فخر محسوس ہوا۔