- الإعلانات -

امریکا اور یورپ میں چاند پہلے سیاہ اور پھر سرخ رہا.

نیویارک: چاند ہمیشہ سے سائنس دانوں کے لیے نہیں بلکہ ہر انسان کے پراسرار رازوں کا ذخیرہ رہا ہے اور گزشتہ رات یورپ اور امریکا کے آسمان پر چمکنے والے چاند کا نظارہ لوگوں کے لیے دلچسپی اور حیرت کو مجوعہ ثابت ہوا کیوں کہ اس رات چاند گرہن لگنا شروع ہوا اور کچھ ہی دیر میں چاند کا حسن گرہن کے تاریک پردے میں چھپ گیا لیکن چند لمحوں بعد چاند کا رنگ سرخ ہونا شروع ہوگیا جسے سائنس دانوں نے سپر مون کا نام دیا۔ ماہرین فلکیات کے مطابق چاند اپنے مدار کے گرد حرکت کرتے ہوئے اس رات زمین کے انتہائی قریب آگیا جس کی وجہ سے وہ اپنی عام حالت سے بڑا اور روشن نظر آیا جس سے اس کا رنگ بھی سرخ نظرآیا اس لیے لوگ اسے بلڈ مون بھی کہہ رہے ہیں۔ سپر مون اور مکمل چاند گرہن کا یہ نظارہ شمالی امریکا، جنوبی امریکا، مشرقی افریقا اور مشرقی یورپ میں دیکھا گیا جب کہ شمالی افریقا، یورپ کے دیگر حصوں، افریقا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں جزوی چاند گرہن دیکھا گیا۔ پاکستان اور دیگر جنوبی ایشائی ممالک میں چاند گرہن صبح کے صادق میں دیکھا گیا۔ چاند گرہن اور سپر مون کا ایک ساتھ یہ دلچسپ اور دلکش نظارہ اس سے قبل 1982 میں دیکھا گیا تھا اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب یہ نظارہ 2033 میں ہی دیکھا جا سکے گا یعنی جو لوگ اس نظارے سے محروم رہ گئے انہیں اب اسے دیکھنے کے لیے مزید 18 سال انتظارہ کرنا پڑے گا۔ سائنس دانون کا کہنا ہے کہ سپر مون عام چاند سے 7 سے 8 فیصد بڑا ہوتا ہے جب کہ چاند مکمل چاند گرہن کے دوران سرخ رنگ میں نہا جاتا ہے اور یہ رنگ اس لیے نظر آتا ہے کہ زمین کا ماحول نیلی روشنی کو لال روشنی کے مقابلے میں زیادہ طاقت سے پھیلاتا ہے اور یہی سرخ روشنی چاند کی سطح ہر پہنچتی ہے جس کی وجہ سے چاند سرخ نظرآتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مکمل چاند گرہن کے دوران چاند، زمین اور سورج ایک ہی لائن میں آجاتے ہیں جب کہ زمین سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے جس کی وجہ سے چاند پر تارکی چھا جاتی ہے اور اسے چاند گرہن کا نام دیا جاتا ہے۔