- الإعلانات -

بھارت میں پولیس کے تشدد سے ملزمان کی ہلاکت روز کا معمول بن گئی

نیودہلی: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت میں پولیس کی حراست میں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا جاتا ہے اور اسے مبینہ طور پر خودکشی یا طبعی موت قرار دے کر ذمہ داروں کو بچالیا جاتا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی جیلوں میں زیرحراست افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا جاتا ہے اور مقتولین کی اموات کو طبعی موت یا خود کشی قرار دے کر ذمہ داران کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی 114 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بھارتی پولیس کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی پرواہ نہ کرنا، تشدد کے باعث اموات کا ہونا اور کسی بھی ذمہ دار کو سزا نہ دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2010 سے 2015 کے درمیان پولیس حراست میں 675 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں سے اکثر کو بیلٹ یا بوٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا پھر ان کی کلائی کی نسیں کاٹ دی گئیں اور دوران حراست کسی بھی قیدی کی موت پر کسی ایک سپاہی کو بھی سزا نہیں دی گئی بلکہ کسی کو مجرم تک قرارنہیں دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2009 سے 2015 کے دوران پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے 17 افراد کے قتل سے متعلق باریک بینی سے جائزہ اور تحقیق کی گئی ہے جس میں متاثرہ خاندانوں کے افراد، گواہوں، قانونی ماہرین ، پولیس حکام کے 70 انٹرویوزکے علاوہ پوسٹ مارٹم رپورٹس بھی دیکھی گئیں اور تمام کیسز میں یہی بات سامنے آئی ہے کہ پولیس نے گرفتاری کے ضابطے کی پاسداری نہیں کی۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا ہے کہ بھارتی قانون کے مطابق حراست میں لیے جانے والے شخص کا طبی معائنہ کرانے کے بعد اسے 24 گھنٹے کے اندر میجسٹریٹ کے پاس پیش کرنا لازم ہے تاہم 2015 میں پولیس حراست میں ہونے والی 97 اموات میں سے 67 میں پولیس نے یا تو ملزم کو 24 گھنٹے کے اندر اندر میجسٹریٹ کے سامنے پیش ہی نہیں کیا یا پھر ملزم کی گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر ہی موت واقع ہوگئی۔