- الإعلانات -

تحریک انصاف اور دیگر جماتیں حکومت ک خلاف ڈٹ گئیں ۔

بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے حکومتی جماعت خوفزدہ،حکومتی وزراء اور ممبران صوبائی اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں متفقہ امیدوار کھڑے کرنے میں ناکام

فیصل آباد : پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے حکومتی جماعت خوفزدہ‘ تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں نے پنجاب بھر میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا ڈٹ کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ حکومتی وزراء اور ممبران صوبائی اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں متفقہ طور پر امیدوار کھڑے کرنے میں ناکام رہے۔ آن لائن کے مطابق اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پنجاب کی بیورو کریسی اور پولیس افسران کو آگے لا کر محرم کا بہانہ بناتے ہوئے الیکشن کو ملتوی کرتے ہوئے مختلف تجاویز مرتب کی ہیں۔ آن لائن کے مطابق گزشتہ روز مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی کی طرف سے الیکشن میں ایک ماہ کی تاخیر سے انتخاب کرانے میں کوئی حرج نہیں کے بیان کو حکومتی پالیسی قرار دیا ہے جبکہ صوبائی وزیر قانون و بلدیاتی رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پنجاب سے بلدیاتی انتخابات میں ہرگز نہیں بھاگیں گے اور ہم انتخابات وقت پر کرانے کے لئے تیار ہیں اگر عابد شیر علی نے الیکشن میں تاخیر کی کوئی بات کہی ہے تو یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ جبکہ آن لائن کے سروے کے مطابق پنجاب کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادی جماعت اسلامی‘ پاکستان عوامی تحریک اور سنی اتحاد کونسل کے ساتھ ساتھ دیگر مذہبی جماعتیں بھی مسلم لیگ ن کی مخالفت پر تلی ہوئی ہیں جبکہ ہر یونین کونسل کی سطح پر چیئرمین‘ وائس چیئرمین کے لئے مسلم لیگ ن کے متعدد امیدوار ٹکٹ کے منتظر ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت جس کے پنجاب کے سربراہ حمزہ شہباز شریف ہیں وہ بھی کوئی واضح پالیسی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گزشتہ روز حمزہ شہباز شریف کی صدارت میں لاہور میں بلدیاتی انتخابات کا جائزہ لینے اور بڑے شہروں میں چیئرمین‘ میئر بنانے کے لئے جو اجلاس بلایا گیا تھا وہ اجلاس بھی بے نتیجہ ختم ہو گیا جبکہ پنجاب بھر سے سے تعلق رکھنے والے وفاقی اور صوبائی وزراء جو اپنے قریبی عزیز جن میں بھائی بیٹے کو ضلع کونسل‘میونسپل کمیٹی اور کارپوریشن میں اپنا چیئرمین‘ میئر منتخب کرانا چاہتے تھے وہ بھی اس وجہ سے مایوس ہو گئے ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب کے وزیراعلیٰ اور انتخابات کو کنٹرول کرنے والے حمزہ شہباز شریف اور ان کے ساتھ دیگر ممبران کمیٹی کو سختی سے ہدایت کر دی ہے کہ وہ کسی بھی وفاقی اور صوبائی وزیر اور ممبر قومی و صوبائی اسمبلی کے بھائی بہن بیٹے کو بلدیاتی اداروں کی اہم نشستوں کے لئے پارٹی ٹکٹ جاری نہ کریں جس کی وجہ سے بعض وفاقی اور صوبائی وزراء جن کے اپنے قریبی عزیز انتخابات میں حصہ لینا چاہتے تھے وزیراعظم کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں اور ان کی بھی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے صوبہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہو جائیں یہ امر قابل ذکر ہے وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی کے بڑے بھائی عامر شیر علی جو پہلے بھی میونسپل کارپوریشن کے میئر رہ چکے ہیں وہ اس مرتبہ بھی یونین کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں مگر حکومت کی طرف سے آنے والے فیصلے سے مایوس ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ممبران اسمبلی اور حکومتی وزیر کے بیٹے بھائی کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ جاری نہ کیا جائے جبکہ صوبائی وزیر قانون و بلدیاتی رانا ثناء اللہ وزیراعظم کے اس فیصلے سے اس لئے خوش ہیں کہ ان کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہے اور ان کا صرف ایک داماد رانا شہریار جنہیں وہ انتخابات نہیں لڑانا چاہتے۔