- الإعلانات -

تو وطن عزیز ناقابل تسخیر خوشخال پاکستان ہوگا

قرضوں پر چلنے قرضوں پرانحصار کرنے اور قرضے لیکر قرضوں کا سود ادا کرنے والے ملک اور معاشرے کس طرح کی ترقی کرتے ہیں اسکا اندازہ لگاناہو تو کسی دیگر ملک اور معاشرے کو دیکھنے کی بجائے خود اپنے ملک اور معاشرے پر غور کرلیں تو بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ وہاں عام آدمی کی زندگی کیسے گزرتی ہے ایک طرف دولت کی بھیڑ لگی ہوتی ہے اور دوسری طرف کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوتے ہیں اسلام آباد سے ایک رپورٹ بلکہ تازہ ترین رپورٹ میں بتایا بلکہ سمجھایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سال کے دوران پاکستان نے اندرونی اور بیرونی سطح پراتنے قرضے لے لئے گے ہیں کہ جتنے آزادی کے بعد تقریباً ساٹھ سال کے دوران یعنی 1947 ؁ء سے 2007 ؁ء تک لیے گئے تھے سٹیٹ بنک کے اعدادو شمار دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ پاکستان کے ذمے واجب العدا قرضوں میں گذشتہ دس سال کے دوران نمایاں اضافہ ہواہے جون 2012 ؁ء تک وطن عزیز کے واجب العدا قرضوں کی مالیت 16 ہزار 228 ارب روپے تھی جو رواں ماہ یعنی نومبر 2016 ؁ء میں بڑھ کر 22 ہزار 461 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں اور ستمبر2013 ؁ء تک ہر پاکستانی شہری قرضہ جات اور واجب العدا رقوم کی مد میں 96 ہزار 422 روپے کا مقروض تھا لیکن اب ہر پاکستانی پر بوجھ بڑہاتے ہوئے اسے تقریبا ایک لاکھ 24 ہزارروپے کا مقروض بنایا جا چکا ہے لیکن جبکہ 2008 ؁ء میں ہر پاکستانی شہری 37 ہزار 172 روپے کا مقروض تھا پھر یہ بوجھ بڑھ کر 80 ہزار روپے ہو گیا تھا ۔اعدادوشماربتاتے ہیں کہ 2007ء ؁ میں پاکستان کے ذمہ مجموعی قرضے اور واجبات 6 ہزار 691 روپے تھے موجودہ حکومت کی طرح گذشتہ حکومت میں بھی لئے جانے والے قرضو ں کی مالیت تقریبا ساٹھ سال میں لیے گئے قرضوں کے برابر تھی گزشتہ حکومت کے پانچ سال کی حکومت میں قرضوں اور واجبات کا بوجھ تقریبا 9 ہزار ارب روپے تھا2008 ؁ء اعداد وشمار کے مطابق قرضوں کا بوجھ 6691 ارب روپے تھا اب حکومت کے ساڑھے تین سال میں قرضوں کے بوجھ میں 6000 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایسا ملک جہاں غربت میں اضافہ ہوا ہے اور تقریبا 50 فیصد آبادی خوراک کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہے ایسے میں قرضوں کے بوجھ میں اس قدر اضافے کا مطلب پاکستان کی آئیندہ نسلوں کیلئے مزید مسائل اور مشکلات ہے اگرچہ بین القوامی مالیاتی ادارے اور ریٹنگ ایجنسیاں موجودہ حکومت کی معاشی کا میابیوں کے گن گاتی نظر آتی ہیں لیکن مجموعی قرضوں اور واجبات میں بھر پور اضافہ اپنی جگہ ایک سوال بلکہ پریشان کن صورتحال کی گھنٹی بجارہاہے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر ملک کو زبر دست مسائل کا شکار کرنے والے معاشی مسائل سے نمٹنے کی راہ تلاش کرنا چاہے اور کہہ جاتاہے کہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت کے ساتھ اور متفقہ حکمت عملی کے بغیرملک کے غریب عوام کو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی ملک موثر اندازمیں معاشی مسائل سے نمٹ سکے گا کرپشن کے ساتھ عدم برداشت کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ سیاسی قیادت کو اچھی طرز حکمرانی کے اصولوں کو بالادست جانتے ہوئے اس پر بھی عمل درامد کرنا ہوگا کہاجاتاہے کہ سیاست دانوں کو قوم کی ایمانداری دیانتداری سے قیادت کرنا چاہیے اور اس مقصد کیلئے انہیں ملک اور قوم کیلئے قربانی دیتے ہوئے غیر ممالک اور آف شوز کمپنیوں سے اپنی دولت واپس وطن لا کر غیر ملکی امداد عطیات اور قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے ملکی قرضے اتارنے اور ملک کو مالی طورپر مستحکم کرکے وطن عزیزکو ایک مضبوط خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانا چاہیے جس میں عام آدمی کو زندگی کی راحتیں سہولتیں سکون اور آرام دستیاب ہو اور اس کے اندر وطن سے محبت کا خالص جذبہ پیدا ہو اور جب ایسا ہوگا تو وطن عزیز نا قابل تسخیر خوشحال پاکستان ہوگا ۔
****