- الإعلانات -

اوباما نے نیوکلیئر کوڈ ٹرمپ کے حوالے کردیے

ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاوس کا نیا مہمان بنتے ہی ٹرمپ دور کا آغاز اور اوباما دور کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی اہلیہ نے وائٹ ہاوس میں استقبال کے لیے موجود سکبدوش صدر کی اہلیہ کو ایک تحفہ بھی دیا ہے۔ غیر متوقع تحفہ پر مشعل حیران تھیں کہ گروپ فوٹو کس انداز سے کھنچوائیں۔ یہ مشکل صدر اوباما نے آسان کردی۔ اسٹاف کو تحفہ تھمایا اور گروپ فوٹو بنوالیا۔

براک اوباما پہلے کہتے رہے تھے کہ ٹرمپ سوشل میڈیا کا اکاونٹ نہیں سنبھال سکتے مگر اب انہوں نے نیوکلیئر کوڈ بھی نئے صدر کے سپرد کیے۔ وائٹ ہاوس انتظامیہ نے 5گھنٹے ہی میں اوباما کا سامان باہر اور ٹرمپ کا سامان یہاں منتقل کردیا۔ نئے صدر اور ان کی اہلیہ نے لنچ میں بھی شرکت کی، جہاں ان کی ڈیموکریٹ حلیف ہیلری کلنٹن نے اپنے شوہر بل کلنٹن کے ساتھ شرکت کی جس پر ٹرمپ شکر گزار نظر آئے۔

سفید سوٹ میں ملبوس ہیلری کلنٹن حلف برداری کی تقریب میں بھی موجود تھیں، تاہم انہیں وہاں اس وقت سبکی کا سامنا ہوا جب ٹرمپ کے مداحوں نے انہیں دیکھ کر نعرے لگانے شروع کر دیے کہ ’ہلیری کو جیل میں ڈالو‘ یہ نعرے سن کر ہلیری کلنٹن کا چہرا پتھرا گیا اور وہ آہ بھرتے دکھائی دیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جذبات سے عاری چہرے کے ساتھ ان سے مصافحہ کیا۔ ہیلری کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت کی عزت کے لیے یہاں آئی ہیں۔ ٹرمپ کے آنے پر سکبدوش انتظامیہ گھروں کو لوٹ گئی۔ نائب صدر جوبائیڈن ٹرین کے ذریعے ڈیلوئیر روانہ ہوئے، جبکہ 8برس تک امریکی صدارت پر براجمان براک اوباما اپنی اہلیہ کے ساتھ چھٹیوں کیلئے فورنیا چلےگئے۔ بس وائٹ ہاوس اور ایئرفورس ون کی یادیں ساتھ لے گئے۔