- الإعلانات -

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کیلیے پارلیمنٹ کی منظوری لازمی قرار

لندن: برطانوی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ وزیراعظم تھریسامے یہ اختیار نہیں رکھتیں کہ اپنی مرضی سے ’’بریگزٹ‘‘ (یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی) پر عمل درآمد شروع کردیں بلکہ اس کے لیے انہیں لازمی طور پر ارکانِ پارلیمنٹ کی اکثریتی رضامندی حاصل کرنا ہوگی۔

2016 میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں 51 فیصد برطانوی شہریوں نے کہا تھا کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہیے جب کہ 49 فیصد کی رائے اس کے خلاف تھی۔ ’’بریگزٹ‘‘ کے نام سے شہرت پانے والے اس عوامی فیصلے کے بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون مستعفی ہوگئے تھے اور ان کی جگہ یہ ذمہ داری تھریسا مے نے سنبھال لی تھی۔

وزیراعظم بننے کے بعد تھریسامے نے اعلان کیا تھا کہ وہ 31 مارچ 2017 تک بریگزٹ پر عمل درآمد شروع کروادیں گی اور اس کے لیے انہیں پارلیمنٹ سے منظوری کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ان کا ’’شاہی استحقاق‘‘ ہے جو انہیں تاجِ برطانیہ سے حاصل ہے۔

اس معاملے پرایک برطانوی خاتون تاجر نے حکومت کے خلاف ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’’شاہی استحقاق‘‘ برطانیہ کی جمہوری اقدار کے منافی ہے اور تھریسامے کو لازماً پارلیمنٹ سے اس بارے میں رضامندی حاصل کرنا ہوگی۔ اس مقدمے میں برطانوی حکومت کو شکست ہوگئی جس کے خلاف برطانوی سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کردی گئی۔

آج برطانوی سپریم کورٹ کی فل بینچ نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور وزیراعظم تھریسامے کو حکم دیا ہے کہ وہ بریگزٹ پر عمل درآمد کے لیے پارلیمنٹ کے اکثریتی نمائندوں کی رضامندی حاصل کریں۔

دوسری جانب سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی پہلے ہی تھریسامے کو بریگزٹ کے معاملے میں تعاون کی یقین دہانی کرواچکی ہے لیکن پھر بھی اس فیصلے کے بعد انہیں برطانیہ کو یورپی یونین سے مکمل طور پر علیحدہ کرنے میں ان دیکھی دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔