- الإعلانات -

(پالپا) کے احتجاج کے باعث صرف 4 فلائٹس متاثر ہوئیں. ترجمان

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) کے احتجاج کے باعث 110 شیڈول فلائٹس میں سے صرف 4 فلائٹس متاثر ہوئیں.پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے ترجمان دانیال گیلانی نے بتایا کہ صرف دو پائلٹس نے پالپا کے دباؤ میں آکر جہاز اڑانے سے انکار کیا، تاہم امید ہے کہ یہ پائلٹس بھی جلد پالپا کے پریشر میں آنے سے انکار کر دیں گے۔دانیال گیلانی کا کہنا تھا، ” تمام فلائٹس وقت پر ہیں اور پالپا کے دباؤ کے باوجود 95 فیصد سے زیادہ پروازیں متاثر نہیں ہوئیں. اس وقت اولین ترجیح حج آپریشن کو بخیر و خوبی مکمل کرنا ہے تاکہ حجاج خصوصاً سانحہ منیٰ کے دوران زخمی ہونے والے حجاج کو زحمت سے بچایا جا سکے۔”پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) انتظامیہ نے صرف 4 پروازیں منسوخ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ملتان-کراچی سیکٹر کی فلائٹ پی کے 330 اور پی کے 331 اور کوئٹہ- لاہور سیکٹر کی فلائٹ پی کے 322 اور پی کے 323 بھی شامل ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ فلائٹس کی منسوخی یا اُن میں تاخیر کے بارے میں پی آئی اے کے کال سینٹر جلد از جلد مسافروں کو بذریعہ فون اور ایس ایم ایس مطلع کر رہے ہیں۔دانیال گیلانی کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے ہوا بازی شجاعت عظیم نے پی آئی اے کی انتظامیہ سے ملاقات کی۔ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ پالپا کے عہدیداران کو بھی گذشتہ روز دعوت دی گئی تھی تاہم انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ آج انہیں باضابطہ تحریری دعوت نامہ بھی دیا گیا ہے۔پالپا کے دباؤ میں بعض پائلٹس کی جانب سے جہاز اڑانے سے انکار کی وجہ سے مجموعی طور پر 51 فلائٹس منسوخ ہو چکی ہیں جس سے ساڑھے 5 ہزار مسافر متاثر ہوئے ہیں، جبکہ پالپا کی جانب سے اس کا ذمہ دار انتظامیہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔پی آئی اے انتظامیہ نے پالپا کے عہدیداران سے متعدد بار درخواست کی کہ مسافروں کے مفاد میں ہڑتال کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ختم کریں۔انتظامیہ نے پائلٹس کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن 2 پائلٹس کے لائسنس معطل ہوئے وہ سول ایوی ایشن نے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر بطور ریگولیٹر کیے اور اس سے پی آئی اے کا کوئی تعلق نہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ روز فلائٹس آپریشنز کے ڈائریکٹر سلمان اظہر نے بتایا تھا کہ رواں ہفتے ایک ہی دن میں غیر معمولی طور پر 14 پائلٹس کے بیمار ہونے کے باوجود فلائٹس کا انتظام کرنا انتہائی دشوار کام تھا۔