- الإعلانات -

گزشتہ سال افغانستان میں دہشتگردی سے ہونیوالی ہلاکتیں 8 سال میں سب سے زیادہ ہیں، رپورٹ

کابل: اقوام متحدہ کے کمیشن کی جانب سے افغانستان سے متعلق جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ افغانستان میں 2016 میں دہشت گردی سے متاثر ہونے والے شہریوں کی تعداد گزشتہ 8 سالوں کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر رہی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان میں موجود اقوام متحدہ کے کمیشن نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 2016 میں افغان شہری دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اور یہ تعداد گزشتہ 8 سالوں کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر رہی جب کہ نیٹو مشن ختم ہونے کے بعد افغان فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جنگ والے مقامات پر سب سے زیادہ اموات پیش آئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2016 میں افغانستان میں 11 ہزار 418 شہری دہشت گردی سے متاثر ہوئے جن میں 3 ہزار 498 ہلاک اور 7 ہزار 920 زخمی ہوئے جو کہ 2015 کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے جب کہ 3 ہزار 500 بچے بھی اس جنگ میں متاثر ہوئے جن میں 923  ہلاک اور 2 ہزار 589 زخمی ہوئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے بھی حملوں میں اضافہ ہوا اور ان کی جانب سے فرقہ وارانہ طور پر زیادہ تر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 209 شہری ہلاک اور 690 زخمی ہوئے جب کہ فضائی حملوں کے نتیجے میں 590 شہری متاثر ہوئے جن میں 250 ہلاکتیں ہوئیں جو 2015 کے مقابلے میں دُگنی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ 8 سالوں کے تنازعے میں اب تک 24 ہزار 841 ہلاکتیں اور 45 ہزار 347 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر نے رپورٹ کو قابل افسوس قراردیتے ہوئے کہا کہ میں شدت پسندوں، حکومت کے حامی سمیت تمام گروپس سے جنگ بندی کی درخواست کرچکا ہوں اور ان سے یہ بھی کہا کہ عوامی مقامات خاص طور پر ، اسکول، اسپتال، مساجد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔