- الإعلانات -

ڈاکٹر عاصم روزانہ 2 کروڑ روپے کمیشن لیتے تھے. نیب

اسلام آباد:  ڈاکٹر عاصم حسین پر رینجرز کی رپورٹ کے حوالے سے نیب کی تحقیقات کے نتیجے میں ایک بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر حراست رہنما ڈاکٹر عاصم حسین پی ایس او سے روزانہ کی بنیاد پر 2 ارب کی بجائے 2 کروڑ روپے کمیشن لیتے تھے. رینجرز رپورٹ میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر زہیر صدیقی سے کی گئی تفتیش کے حوالے بتایا گیا کہ ’’زہیر صدیقی نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر عاصم روزانہ جہانگیر شاہ (ڈی ایم ڈی پی ایس او) اور جعفری کے ذریعے پی ایس او سے دو ارب روپے کمیشن وصول کرتے تھے۔‘‘انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق کچھ روز قبل دی نیوز سے نیب کے عہدیدار نے رابطہ کرکے واضح کیا کہ ڈاکٹر عاصم کی جانب سے پی ایس او حکام سے مبینہ طور پر روزانہ کی کمیشن کی مد میں درست اعداد و شمار دو کروڑ روپے ہیں۔ سب سے سنجیدہ بات یہ ہے کہ رینجرز کی رپورٹ پڑھنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردی کے حوالے سے عائد کردہ الزامات بنیادی طور پر سابق ایم ڈی سوئی سدرن کے بیان کے تحت عائد کیے گئے ہیں اور ان الزامات کو دیکھا جائے تو ڈاکٹر عاصم کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملتے۔ نیب جو رینجرز کی جانب سے جو رپورٹ بھجوائی گئی ہے اس میں ڈاکٹر عاصم کے خلاف خالصتاً کرپشن کے کچھ معاملات ایسے ہیں جن کی تفصیلات میں معقولیت پائی جاتی ہے۔ تاہم، دہشت گردی سے جڑے جرائم میں ڈاکٹر عاصم کے ملوث ہونے کے حوالے سے رپورٹ میں لکھا ہے کہ:’’تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ ڈاکٹر عاصم قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ غبن کی گئی رقم ان کے سیاسی آقائوں کو فراہم کی گئی جو بعد میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلرز کی مالی معاونت میں استعمال ہوئی تاکہ ملک کے سب سے بڑے اور اقتصادی مرکز سمجھے جانے والے شہر میں بے چینی پیدا کی جا سکے۔‘‘ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ وہ کون سیاسی آقا تھے جنہیں غبن کردہ رقم فراہم کی گئی اور اگر ڈاکٹر عاصم کا ٹارگٹ کلرز کے آقائوں کے ساتھ کوئی گٹھ جوڑ تھا یا پھر کراچی مافیا کی جانب سے دیگر کاروباری شخصیات کی طرح انہیں بھی بھتہ لینے پر مجبور یا بلیک میل کیا جا رہا تھا۔ رابطہ کرنے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رینجرز کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ نیب کو بھجوائی جانے والی رپورٹ سے قطع نظر، ہمارے پاس ڈاکٹر عاصم کے مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کسی آدھی تحقیقات کے نتیجے میں نہیں کیا گیا بلکہ ٹھوس شواہد تھے اسلئے انہیں گرفتار کیا گیا۔ رینجرز کے ذریعے نے اشارتاً کہا کہ ڈاکٹر عاصم کے کرپشن کیسز نیب دیکھے گا لیکن اس کے مجرمانہ / دہشت گردی سے جڑے پہلوئوں کو رینجرز دیکھیں گے۔ ذریعے نے بتایا کہ ڈاکٹر عاصم رینجرز کی تحویل میں رہیں گے اور ان کی جلد رہائی کے امکانات نہیں ہیں۔ اگرچہ رینجرز کو ڈاکٹر عاصم کے دہشت گردی سے جڑے جرائم کے شواہد ابھی پیش کرنا ہیں لیکن ان کی جانب سے نیب کو فراہم کردہ رپورٹ میں ان مجرمانہ سرگرمیوں کا انحصار سوئی سدرن کے سابق ایم ڈی زہیر صدیقی کے بیان پر ہے۔ رپورٹ میں زہیر صدیقی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ: ’’ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم ممکنہ طور پر ایم کیو ایم کی مالی معاونت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے بابر غور اور گورنر عشرت العباد کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ وہ ممکنہ طور پر نارتھ ناظم آباد میں قائم اپنے اسپتال کے کاروبار کو بچانے کیلئے بابر غوری کے ذریعے یہ فنڈنگ کرتے ہیں۔