- الإعلانات -

نندی پور منصوبے پرخواجہ آصف اور اعتزاز احسن کی سینیٹ میں تلخ جملوں کی جنگ

اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاو¿س اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف بیرسٹر اعتزاز احسن نے نندی پور پاور پراجیکٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نےکہا کہ موجودہ حکومت میں صورتحال یہ ہے کہ 4 افراد بیک وقت پانی وبجلی کی وزارت چلارہے ہیں، نوازشریف کی جب حکومت ہو تو ان کے اسیکنڈل اور سپریم کورٹ پر حملہ وائٹ واش ہوجاتا ہے۔ نندی پورپاور پروجیکٹ سے حوالے سےحکومت پر لگے الزامات سنگین ہیں، نندی پور میگا اسکینڈل ہے اس سے فرارکا راستہ نہیں ہے، نندی پور تکنیکی نہیں بلکہ کرپشن کا معاملہ ہے، ہم نے تجویز کیا ہے کہ نندی پور کی تحقیقات نیب کرے، نندی پور کے معاملے پر فوجداری مقدمہ چلایا جائے لیکن حکومت نہیں چاہتی کہ اس پر فوج داری مقدمہ چلے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اب تک 477 روپے ٹیکس اداکیا ہے ،کیا یہی ان کے اثاثے ہیں،ان کی آمدنی کے ذرائع کو دیکھا جائے تو وہ بھی ایک نئی داستان پروان چڑھنے کو تیار ہے۔ اعزاز احسن کی تنقید پر خواجہ آصف نے کہا کہ ہم قانون سے بالاترنہیں، ہمیں بھی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تو کریں گے، نندی پورمنصوبے کی نیب سے تحقیقات کرائیں یا پھر جس ملکی یا بین الاقوامی فورم سے کرالیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اعتزازاحسن کی نندی پور پراجیکٹ کے حوالے سے تنقید کی وجہ ان کی اہلیہ کا ایل پی جی کوٹے کا معاملہ ہے ، ایل پی جی کوٹے پر مال بھی بٹورتے ہیں اوراپوزیشن کے دل میں نیب کی محبت بھی جاگ جاتی ہے۔ وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ نندی پور پراجیکٹ پر پیپلز پارٹی کے دورمیں بھی کوئی کام نہیں ہوا تو ہماری ضمانتیں کیسی ، منصوبے میں تاخیر کی رپورٹ کا پہلے جائزہ لیں پھر ہم بھی ضمانتیں دینے کے لئے تیار ہیں ، اگر پیپلز پارٹی کی قیادت کا اس منصوبے کے بارے میں موقف سامنے لے آئیں تو وہ کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ خواجہ آصف کی بات پر اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر انہوں نے حکومت سے کوئی فائدہ یا ایل پی جی کا کوئی کوٹہ لیا ہوتا یا جرنیلوں سے کوئی فائدہ لیا ہوتا تو ان سے مقابلہ نہ کرتے اور انہیں یہاں سے بھگایا نہ ہوتا۔