- الإعلانات -

سری نگر: نمازیوں پر تشدد کےخلاف ہڑتال جھڑپوں میں درجنوں زخمی

سری نگر : متعدد مظاہرین کو گرفتارکرلیاگیا ¾پولیس کی جانب سے شلنگ اور ہوائی فائرنگ ¾ وحشیانہ لاٹھی چارج سے زخمی ہونے والا نوجوان تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاگیا ¾ دوران ہڑتال سڑکوں سے ٹریفک غائب ¾ پائین شہراوردیگر حساس علاقوں . سری نگر کی جامع مسجد میں نمازیوں پر تشدد کےخلاف دی گئی احتجاجی کال کے دوران پرتشدد جھڑپیں ¾ درجنوں افراد زخمی ہوگئے ¾ متعدد مظاہرین کو گرفتارکرلیاگیا ¾پولیس کی جانب سے شلنگ اور ہوائی فائرنگ ¾ وحشیانہ لاٹھی چارج سے زخمی ہونے والا نوجوان تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاگیا ¾ دوران ہڑتال سڑکوں سے ٹریفک غائب ¾ پائین شہراوردیگر حساس علاقوں میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات۔ تفصیلات کے مطابق فورسز اور پولیس کی طرف سے مرکزی جامع مسجد میں نمازیوں پرتشدد اور آنسو گیس شلنگ کے خلاف انجمن اوقاف جامع کی طرف سے دی گئی احتجاجی ہڑتال کال کے نتیجے میںسرینگر میں معمول کی زندگی درہم برہم ہوئی جس دوران کئی مقامات پر احتجاج ہوا جبکہ مائسمہ ،نوہٹہ ،راجوری کدل اور پائین شہر کے دیگر کئی علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیںاور پولیس نے شلنگ اور ہوائی فائرنگ کی ۔26جون کو جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے موقعہ پر پیش آنے والے واقعہ جس میں فورسز اور پولیس نے جامع مسجد کے تقدس کی پرواہ کئے بغیر مسجد کے اندر گھس کر نمازیوں کیخلاف طاقت اور تشدد کا استعمال کیا اورآنسو گیس کی شلنگ کرکے مسجد کی حرمت کو پامال کی، کیخلاف انجمن اوقاف جامع نے سرینگر ضلع میں احتجاجی ہڑتال کی کال دی جس کی کئی مزاحتمی تنظیموں اور تاجر انجمنوںنے حمایت کی تھی ۔ہڑتال کے نتیجے میں سرینگر شہر میں معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔شہر سرینگر میں تمام دکانیں ، کاروباری مراکزاوربنک بندرہے اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا تاہم نجی ٹرانسپورٹ چلتا رہاجبکہ بٹہ وارہ ،بٹہ مالو اور دیگر کئی روٹوں پر میٹادار اور سومو سروس جزوی طور چلتی رہی۔ہڑتال کے نتیجہ میں سکول اور کالج بند رہے جبکہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی اور معمول کا کام کاج متاثر ہوا ۔سول لائنز کے لالچوک،مائسمہ،آبی گذر، ریگل چوک ، بڈشاہ چوک،بٹہ مالو اور دیگر ملحقہ علاقوں میںتمام کاروباری مراکز بند رہے ۔مائسمہ،گا کدل اور بڈشاہ چوک میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سنیچر صبح سے ہی پولیس اور سی آر پی ایف کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی ۔مائسمہ میں نوجوانوں کی ٹولیاں نعرے بازی کرتے ہوئے نمودار ہوئیں اور پولیس نے انہیں بھگانے کیلئے لاٹھی چارج کیا۔مشتعل نوجوانوں نے پولیس پر سنگ باری کی اور نعرے لگائے۔جس دوران گا کدل ،مائسمہ بنڈ اور مائسمہ بازار کے علاوہ ریڈ کراس روڈ پر پولیس نے خشت باری کررہے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے جوابی پتھراؤ کے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج اور شلنگ کی ۔پولیس اور احتجاجی نوجوانوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا ۔جس کے نتیجہ میں علاقہ میں حالات پرتنا رہے۔ادھر نوہٹہ ،رعناواری ،زینہ کدل ،راجواری کدل ،حبہ کدل ،حول ،کاڈراہ ،خانیار اور پائین شہر کے دیگر علاقوں میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہا ۔جس دوران سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آئے اور لوگوں نے زیادہ ترگھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے پائین شہر میں خاموشی چھائی رہی۔ امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پائین شہراوردیگر حساس علاقوں میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔بعد دوپہر پائین شہر کے کا ڈارہ،صراف کدل ،نوہٹہ اور دیگر کئی مقامات پر نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس و سی آر پی ایف اہلکاروں نے انہیں روکنے کیلئے لاٹھی چارج اور اشک آور گےس کے گولے داغے۔راجوری کدل میں نوجوانوں کے ایک گروپ نے سڑکوں پررکاوٹیںکھڑا کرکے احتجاجی مظاہرے کئے اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے ۔