- الإعلانات -

نندی پور پاور پلانٹ کی لاگت میں اضافے کی درخواست.

اسلام آباد: نندی پور پاور پلانٹ کے حوالے سے تمام تر تنازعات اور تحقیقات کے باوجود حکومت نے پلانٹ کی لاگت میں 44 فیصد تک اضافے کی درخواست کردی۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے رواں سال 15 اپریل کو نندی پور پاور پلانٹ کے لیے 45 ارب روپے کی لاگت کی منظوری دی تھی۔گزشتہ ہفتے وزارت پانی و بجلی کی ماتحت کمپنی اور نندی پور پلانٹ پر کام کرنے والی ناردرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (این پی جی سی ایل) نے نیپرا کو پاور پلانٹ کی لاگت بڑھا کر 65 اعشاریہ 35 ارب کرنے کی درخواست کی جس پر نیپرا نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔این پی جی سی ایل کی جانب سے درخواست میں نیپرا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پراجیکٹ پہلے ہی مقروض اور تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور اگر اس کی لاگت میں اضافہ نہ کیا گیا تو یہ قائم نہیں رہ پائے گا۔این پی جی سی ایل کی درخواست میں نیپرا سے کہا گیا ہے کہ وہ حقائق کی روشنی میں پلانٹ کی لاگت میں اضافہ کرے تاکہ صارفین پلانٹ سے پیدا ہونے والی بجلی باقاعدگی سے استعمال کر سکیں۔واضح رہے کہ مذکورہ پلانٹ رواں برس 31 مئی کو وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے افتتاح کے صرف 5 دن بعد ہی بند ہوگیا تھا، پلانٹ سے 42 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی۔نیپرا کو دی گئی درخواست میں این پی جی سی ایل کی جانب سے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) رحمت حسین جعفری کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ نیپرا حکام نے کمیشن کے سامنے بیان دیا تھا کہ پلانٹ کی دستاویزات میں تاخیر وزارت قانون و انصاف کی جانب سے ہوئی جس کے باعث قومی خزانے کو اپریل 2012 تک 113 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔خیال رہے کہ نندی پور پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے دور حکومت میں رکھا گیا تھا اور اس وقت اس کی لاگت کا تخمینہ 23 ارب روپے لگایا گیا تھا تاہم پھر یہ منصوبہ 4 سال تک تاخیر کا شکار رہا۔ذرائع کے مطابق منصوبے کے حوالے سے حالیہ تنازع کے بعد حکومت نے ایک بار پھر اس کی تحقیقات کے لیے، جسٹس ناصر اسلم زاہد کی جانب سے معذرت کے بعد، رحمت حسین جعفری سے رجوع کیا تھا۔این پی جی سی ایل کی درخواست میں زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی سی ون کے تحت نندی پور منصوبے کہ اصل لاگت 58 اعشاریہ 8 ارب تھی لیکن نیپرا نے اس کی لاگت کا تخمینہ کم کرکے 45 ارب روپے کردیا۔واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے سینٹ کو بتایا تھا کہ جولائی تک منصوبے پر 58 ارب روپے میں سے 49 ارب روپے خرچ کیے جاچکے تھے اور گیس پر منصوبے کو چلانے کے لئے 9 ارب روپے باقی ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پلانٹ پر انجینئرنگ کے کام، خریداری اور تعمیر کے لیے 317 اعشاریہ 7 ملین ڈالر مختص کیے گئے تھے لیکن نیپرا نے اس میں سے بھی 11 اعشاریہ 2 ملین ڈالر کی منظوری نہیں دی جبکہ الگ سے 65 ملین ڈالر کے مطالبے کو بھی رد کردیا گیا۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انجینئرنگ، خریداری اور تعمیر کے علاوہ دیگر اخراجات کے لیے 46 ملین ڈالر رکھے گئے تھے جس میں سے 19 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی جبکہ اسپیئر پارٹس کی خریداری کے لیے 15 ملین ڈالرز کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن نیپرا نے 11 ملین ڈالر کی منظوری دی۔