- الإعلانات -

اراکین اسمبلی پر ضمنی انتخابی مہم چلانے پر پابندی

اسلام آباد :  عدالت عظمیٰ نےضمنی انتخابات کے انعقاد سےمتعلق الیکشن کمیشن کے جاری کئے گئے’’ ضابطہ اخلاق ‘‘کو معطل کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے دو الگ الگ فیصلوں کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے دونوں فیصلے کالعدم قرار دیئے ہیں اور کیس دوبارہ سماعت کے لئے لاہور ہائی کورٹ ہی کو بھجواتے ہوئےاس حوالہ سے ایک ماہ کے اندر اندر فیصلہ جاری کرنے کی ہدایت کی ہے ،فاضل عدالت نے قرار دیا کہ اراکین اسمبلی پر ضمنی انتخابات کے دوران انتخابی مہم چلانے پر پابندی ہے، جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ وہ اب محتاط ہوگئے ہیں ،عدالت عظمیٰ کی جانب سے اگر کسی کیس میںحکم امتناع جاری کر دیا جائے تو چہ مگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں ،جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اقبال حمید الرحمان اور جسٹس مقبول باقر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے منگل کے روزلاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف الیکشن کمیشن کی دو اپیلوں کی سماعت کی تو اپیل کنندہ کے وکیل ابراہیم ستی نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کےحلقوں 122اور 154میں ضمنی انتخابات کے انعقاد سے قبل ضمنی انتخابات سے متعلق ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے عوامی عہدہ کے حامل افراد (وزیر اعظم ، وزیر اعلی وفاقی و صوبائی وزراء وغیر )کے انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی عاید کی تھی ،جسے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیاتو 25 مئی کوجسٹس منصور علی خان پر مشتمل سنگل بنچ نے ضابطہ اخلاق کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے دیا تھا ، جس کے خلاف ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو فاضل عدالت کے اسی بنچ نے ہی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔