- الإعلانات -

لندن مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کا اندراج علیحدہ کرنے کی ہدایت

لندن: برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز کارروائیوں کا اندراج علیحدہ ہوگا۔ پاکستانی نژاد برطانوی وزیر برائے ہوم آفس لارڈ طارق احمد کاکہنا ہےکہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اسلام مخالفت میں نفرت پر مبنی جرائم سے مسلمانوں کو تحفظ دلانے کیلئے اپنے تمام وعدے پورے کردیئے ہیں۔ برطانوی وزیر کاکہنا تھاکہ یہ بہت بڑی پیش رفت ہےکہ کنزرویٹو حکومت نے انگلینڈ اور ویلز میں پولیس کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کا اندراج علیحدہ کرنے کی ہدایت کی ہے اوربالکل یہودی مخالف جرائم کی طرح ان سے سنجیدگی سے نمٹنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں پر محض انکے اسلام سے منسلک ہونے کی بنیاد پر حملہ کرنا جرم ہوگا ۔ انہوں نے پارٹی کی ساتھی رکن بیرونیس سعیدہ وارثی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئےکہاکہ انہوں نے اپنے دور وزارت میں برطانوی محکموں کو یہ بات باور کرانے میں اہم کردار ادا کیا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم ایک سنگین معاملہ ہے اور مسلمان برادری کو تحفظ ملنا چاہیے۔ لارڈ طارق کاکہنا تھاکہ انہوں نے برطانیہ کی جانب سے حالیہ اقدامات کیلئے کوششیں کیں۔ انہوں نے بتایاکہ مسلمان مخالف جرائم کا علیحدہ سے اندراج کنزرویٹو پارٹی کے منشور میں شامل تھا، جوکہ مسلمانوں کو یہ باور کرانے کیلئے تھاکہ برطانوی حکومت محض مسلمان شدت پسندوں کے خلاف ہی کارروائی نہیں کررہی بلکہ اس کے اقدامات متوازن ہیں ۔2013-14میں پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق مذہبی مخالفت پر مبنی جرائم کی شرح میں 45فیصد تک اضافہ ہوا، نسلی مخالفت پر مبنی جرائم میں 4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مسلمانوں کے خلاف جرائم کے علیحدہ اندراج کے ذریعے پولیس ، استغاثہ، مقامی حکام اور دیگر برادریوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کے بارےمیں بہتر طور پر آگاہی حاصل ہوگی۔ اس کے ذریعے انگلینڈ اور ویلز میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز کارروائیوں کی درست شرح بھی معلوم ہوگی۔