- الإعلانات -

جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق پاکستان پر عائد پابندیاں نرم ہو سکتی ہیں.امریکی اخبار

اسلام آباد: وزیر اعظم کے دورے میں جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق پاکستان پر عائد پابندیاں نرم ہو سکتی ہیں،امریکہ کو پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کی مستقبل میں ممکنہ تنصیب پر تشویش ہے جیسا امریکہ نے سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے حملے کو روکنے کے لئے کیا تھا،جوہری ہتھیاروں کے محدود کرنے پر پاکستان کے راضی ہونے کاکوئی امکان نہیں ، جوہر ی ہتھیار پاکستانی قوم کا فخر ہیں اور انہیں بھارت کے خلاف حقیقی دفاع کے طور پر سمجھا جاتا ہے،نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

امریکی اخبار نے امکان ظاہر کیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کے دورے میں جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق پاکستان پر عائد پابندیاں نرم ہو سکتی ہیں،امریکہ کو پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کی مستقبل میں ممکنہ تنصیب پر تشویش ہے جیسا امریکہ نے سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے حملے کو روکنے کے لئیکیا تھا،جوہری ہتھیاروں کے محدود کرنے پر پاکستان کے راضی ہونے کاکوئی امکان نہیں ، جوہر ی ہتھیار پاکستانی قوم کا فخر ہیں اور انہیں بھارت کے خلاف حقیقی دفاع کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطا بقاوباما انتظامیہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے دائرہ کار کو محدود کرنے کیلئے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ جس طرح 2005میں امریکانے بھارت کے ساتھ سول جوہری ٹیکنالوجی کا معاہد ہ کیا تھا ویسا ہی معاہدہ پاکستان کے ساتھ بھی کیا جائے تاہم امریکا اس پر بات چیت کیلئے راضی نظر نہیں آتا لیکن امریکا جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق پاکستان پر عائد پابندیوں میں نرمی کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے محدود کرنے پر پاکستان کے راضی ہونے کاکوئی امکان نہیں ، جوہر ی ہتھیار پاکستانی قوم کا فخر ہے اور انہیں بھارت کے خلاف حقیقی دفاع کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔اخبار کے مطابق پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر امریکی الزامات کے بعد اس عشرے میں پہلی بار پاکستان اور امریکا جوہری پروگرام پر بات چیت میں مصروف ہیں۔آئندہ ہفتے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی واشنگٹن آمد سے پہلے بات چیت کی جارہی ہے۔ بات چیت کی اصل تشویش پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیار ہیں۔امریکا کو خدشہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو نصب کیے جانے کا امکان ہے جس طرح امریکا نے سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے حملے کو روکنے کے لئے واضح طور پر یورپ میں چھوٹے جوہری ہتھیار نصب کیے تھے۔اس بات چیت کی قیادت امریکی انٹیلی جنس ماہر پیٹر آر لیواے کی طرف سے کی جارہی ہے۔ نواز شریف کے دورے سے قبل اس طرح کے مذاکرات پر تبصرے سے وائٹ ہاوس حکام نے انکار کر دیا۔ دیگر حکام او ماہرین کے مطابق بات چیت کا مرکزپاکستان پرنیوکلیئر سپلائر گروپ کی طرف سے عائد سخت کنٹرول میں نرمی کرنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی درخواست پر پاکستان مشکل سے ہی عمل کرے۔امریکا کی پاکستان کے ساتھ جوہری پروگرام کے متعلق بات چیت کا تذکرہ ایک ہفتے قبل واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں بھی کیا گیا۔امریکی حکام نے کانگریس کو بتایا ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار وں کی نگرانی سب سے زیادہ اچھی ہے اور ان کے وارہیڈ ڈلیوری گاڑیوں سے الگ ہیں لیکن امریکی حکام کو چھوٹے ہتھیاروں کے چوری ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے ساتھ امریکا کا سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہد ہ زیر بحث آنے کا امکان نظر نہیں آتا تاہم پاکستان کے ساتھ نیوکلیئر سے متعلقہ ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں میں امریکا نرمی کا راستہ دیکھ رہا ہے جس سے پاکستان جوہری ہتھیاروں کے لئے ٹیکنالوجی کو امپورٹ کرسکے گا۔اخبار نے ڈاکٹر عبدالقدیر پر مبینہ الزامات کو پھر دہرایا ہے۔ اخبار کے مطابق بش انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو محفوظ بنانے اور اس پر مامور عملے کی ٹریننگ پر دس کروڑ ڈالر خرچ کیے۔