- الإعلانات -

بھارتی فورسز نے 60 سالہ خاتون کو پاکستانی درانداز قرار دے کر قتل کردیا

نئی دلی: جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں بھارتی فوج جنگی جنون میں اس قدر اندھی ہوچکی ہے کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے بعد بڑی ڈھٹائی سے ان بے گناہوں کو پاکستانی ایجنٹ اور درانداز قرار دے دیتی ہے ایسا ہی ایک واقعہ گورداس پور میں پیش آیا ہے جہاں ایک 60 سالہ بوڑھی خاتون کو کسی بھی ثبوت کے بغیر ہی صرف اس شبے میں مار دیا گیا کہ وہ مبینہ طور پر پاکستان سے سرحد پار کرکے آئی ہے۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی رات بھارتی ریاست پنجاب کے سرحدی علاقے گورداس پور میں بارڈر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار معمول کا گشت کررہے تھے کہ انہوں نے رات کی تاریکی میں ایک شخص کو مبینہ طور پر پاکستان سے بھارتی حدود میں داخل ہوتے دیکھا اور آؤ دیکھا نا تاؤ فائرنگ کرکے اسے مار دیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ بھارتی درندگی کا نشانہ بننے والا کوئی مرد نہیں بلکہ ایک عورت ہے اور اس کی عمر بھی کم از کم 60 سال ہے۔

بی ایس ایف ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ماری گئی خاتون کے پاس سے کوئی بھی قابل ذکر چیز برآمد نہیں ہوئی، ترجمان نے اپنے اہلکاروں کی درندگی پر پردہ ڈالنے کے لیے موقف اختیار کیا ہے کہ فائرنگ سے پہلے خاتون کو متنبہ کیا تھا لیکن اس نے اس پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا تھا، جس پر اہلکاروں کو فائرنگ کرنا پڑی۔

بعد ازاں بی ایس ایف نے پاکستان رینجرز کے حکام کو فلیگ میٹنگ میں جاں بحق خاتون کی تصاویر فراہم کی ہیں تاکہ خاتون کی شناخت کی جاسکے لیکن اب تک پاکستان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ پاک بھارت سرحد اور لائن آف کنٹرول میں کئی مقامات ایسے ہیں جہاں سے لوگ غلطی سے سرحد پار کرجاتے ہیں اور پاکستان کی جانب سے ایسے لوگوں کو ضروری تفتیش کے بعد بھارت کے حوالے کردیا جاتا ہے۔