- الإعلانات -

سعودی شاہی خاندان جس میں اختلافات اور بغاوت

واشنگٹن :  سعودی شاہی خاندان جس میں اختلافات اور بغاوت کے خدشات کا اظہار گذشتہ کئی عرصے سے کیا جارہا تھا کچھ ماہ قبل سعودی شہزادے نے شاہ سلمان کے نام تحریر کئے گئے اپنے خط میں تمام پالیسیوں سے بغاوت کا اظہار کیا تھا اب امریکہ کے شہر واشنگٹن سے شائع ہونیوالے موقر اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہی خاندان کے اندر جاری شدید اختلافات کی وجہ سےسعودی عرب کی صورتحال اس وقت طوفان سے پہلی والی خاموشی کی سی ہے ۔ سعودی وزیرداخلہ اورولی عہد محمد بن نایف اور سعودی وزیردفاع اورولی عہد کے جانشین محمد بن سلمان ایک ایسے وقت بادشاہت کی کرسی تک پہنچنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں لگے ہوئے ہیں جب شاہی خاندان  کے کچھ افراد تہتر سالہ احمد بن عبدالعزیز کو ملک کا آئندہ بادشاہ بنائے جانے کی حمایت کررہے ہیں ۔واشنگٹن پوسٹ کے مقالہ نگار ڈ یوڈ ایگناٹیس نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہے کہہ سعودی عرب کے شاہی خاندان میں اختلافات پچھلے مہینے اس وقت مزید شدت اختیار کرگئے جب سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیزنے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کےکہنے پر وزیرداخلہ محمد بن نایف کے مشیر سعد الجبری کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا – شاہ سلمان کے اس فیصلے سے امریکا میں بھی تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ سعود الجبری سعودی عرب اور مغرب کی انٹلیجنس ایجنسیوں کے درمیان مضبوط رابطہ تھے –

واشنگٹن پوسٹ کے مقالہ نگار لکھتے ہیں کہ محمد بن نایف اور محمد بن سلمان کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی اس وقت اور زیادہ تیز ہوگئی جب اناسی سالہ سعودی بادشاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کے ساتھ امریکا کا دورہ کیا اور امریکی حکام نے محمد بن سلمان سے بھی ملاقات پراصرارکیا – واشنگٹن پوسٹ کا مقالہ نگار لکھتاہے کہ سعودی عرب میں مسندبادشاہت پر بیٹھنے پر کھینچا تانی  شاہی خاندان میں اختلافات بڑھنے کا باعث بن گئی چنانچہ اب تک مختلف سعودی شہزادوں کی طرف سے شاہ سلمان اور اسی طرح وزیرداخلہ اور ولی عہد محمد بن نایف دونوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کرنے کی متعدد درخواستیں کرچکے ہیں –

یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی خاندان کےکچھ شہزادے تہتر سالہ احمد بن عبدالعزیز کو جو موجودہ شاہی سلسلے کےبانی عبدالعزیز کے بیٹے ہیں سعودی عرب کا بادشاہ بنانے کی وکالت کررہے ہیں –

شاہ سلمان کے بارے میں بھی قوی اطلاعات ہے کہ بیماری کے باعث وہ اکثر وقت ہسپتال میں گزارتے ہیں اور گذشتہ ہفتے ریاض کے ایک ہسپتال میں انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل بھی کرایا گیا تھا