- الإعلانات -

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کا فیصلہ دونوں ملکوں کی دوطرفہ سیریز کی بحالی پر منحصر ہے۔شہریارخان

لاہور:پاکستان کرکٹ بورڑ(پی سی بی) کے چیئرمین شہریارخان نے کہاہے کہ ہندوستان میں منعقد ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کا فیصلہ دونوں ملکوں کی دوطرفہ سیریز کی بحالی پر منحصر ہے۔

شہریارخان، بی سی سی آئی کے سربراہ ششانک منوہرسے طے شدہ ملاقات کے لیے پیر کے روز ممبئی گئے تھے جہاں باہمی سیریز کے انعقاد پر تبادلہ خیال ہوناتھا لیکن شیو سینا کے شدید احتجاج کے بعد انھیں خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہریار خان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ہندوستانی حکومت اور کرکٹ بورڈ ایک چھوٹے گروہ کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔

انھوں نے کہاکہ”میں ہندوستان بی سی سی آئی کے چیئرمین ششانک منوہر کی دعوت پر گیا تھا لیکن وہاں ہندوستانی حکام کا متضاد رویہ دیکھ کر حیرت ہوئی، میں کہوں گاکہ وہان میزبانی کے تمام اصولوں پر عمل نہیں کیا گیا اور احتجاج کے بعد پہلی ملاقات کی منسوخی کے باوجود دوسری خیرسگالی ملاقات کا انتظام نہیں کیا گیا۔”

انھوں نے مزید کہا کہ” ہندوستانی حکومت اور بورڑ کو ایک چھوٹا گروہ یرغمال بنارہا ہے لیکن اکثریت پاکستان کے ساتھ سیریز کے حق میں ہے تاہم اب ہم بی سی سی آئی کے پیچھے نہیں جائیں گے۔”

شہریارخان نے کہاکہ ہندوستان میں امن وامان کی صورت حال کے باعث آئی سی سی نے علیم ڈار کو وہاں سے واپس بلانے کا فیصلہ کیااور اب حکومت پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت سے قبل تمام باتوں کاجائزہ لے گی۔

ان کا کہناتھاکہ "جہاں تک ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا سوال ہے تو ہم بی سی سی آئی کی جانب سے دو طرفہ سیریز کے انعقاد کے حوالے سے واضح جواب کے بعد پاکستان کی ایونٹ میں شرکت کا حتمی فیصلہ کریں گے۔ مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی سے قبل پاکستانی حکومت بھی ہندوستان میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لے گی۔

آئی سی سی کے صدر ظہیر عباس نے اپنے بیان میں اس تنازع کو گھمبیر مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں پاکستان کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں شرکت کے حوالے سے خدشات ہیں۔

طہیر عباس نے ٹی وی چینل کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگلے سال مارچ میں دونوں ٹیمیں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا پہلا میچ کھیلیں گی لیکن موجودہ صورت حال ٹورنامنٹ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ان کاکہنا تھا”اگر ہندوستان میں زیادہ واویلا ہوتاہے اور لوگ پاکستان کے ساتھ سیریز کی مخالفت کرتے ہوں تو پھر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے بھی مشکلات کھڑی ہوں گی۔ ممکن ہے پاکستانی کھلاڑی اپنے تحفظ کی خاطر ہندوستان کا دورہ کرنے سے انکار کردیں۔”