- الإعلانات -

پاکستانی تاریخ کا خوفناک زلزلہ، 185افرادجاں بحق 1100ے زائد زخمی

پاکستان میں 8.1 شدت کے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی‘ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے مکانات اور عمارتیں گرنے سے185 زائد افراد جاں بحق ، خواتین‘ بچوں سمیت سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے
جڑواں شہروں میں زلزلے میں بلیو ایریا سمیت مختلف سیکٹروں میں پلازوں میں دراڑیں پڑ گئیں ، آئی الیون سیکٹر میں پلازے میں دراڑیں پڑنے کے دوران کھڑکیوں سے چھلانگیں لگانے کی وجہ سے متعدد افراد زخمی ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے متعدد شہروں میں مکانات تباہ ہوگئے‘ زلزلے سے پورے ملک میں مواصلات کا نظام درہم برہم‘ لوگوں کو اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا
وزیراعظم اور آرمی چیف کی فوری ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت‘نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا آئندہ چوبیس گھنٹوں میں آفٹر شاکس کا خدشہ ظا، لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
اسلام آباد/لاہور/پشاور/کراچی/کابل/ نئی دہلی (روزنامہ قدرت۔۔26اکتوبر2015) ملکی تاریخ کے خوفناک زلزلے سے دبئی سے دہلی تک سب کچھ لرز گیا‘ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں سمیت افغانستان‘ بھارت ‘ دبئی اور ملحقہ ممالک میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے‘ پاکستان میں 8.1 شدت کے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی‘ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے مکانات اور عمارتیں گرنے سے185 زائد افراد جاں بحق جبکہ خواتین‘ بچوں سمیت 1100 افراد زخمی ہوگئے‘ جڑواں شہروں میں زلزلے کے نتیجے میں بلیو ایریا سمیت مختلف سیکٹروں میں پلازوں میں دراڑیں پڑ گئیں‘ اسلام آباد کے آئی الیون سیکٹر میں پلازے میں دراڑیں پڑنے کے دوران کھڑکیوں سے چھلانگیں لگانے کی وجہ سے متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے متعدد شہروں میں مکانات تباہ ہوگئے‘ زلزلے سے پورے ملک میں مواصلات کا نظام درہم برہم‘ لوگوں کو اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا‘ وزیراعظم اور آرمی چیف کی فوری ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت‘نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں آفٹر شاکس کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی دوپہر 2بج کر 9منٹ پر اکتوبر میں ایک بار پھر خوفناک زلزلے نے تباہی مچا دی‘ ملک بھر سمیت بھارت اور افغانستان سمیت پڑوسی ممالک میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے جن کی ریکٹر سکیل پر شدت 7.7ریکارڈ کی گئی جبکہ محکمہ موسمیات کے مطابق شدت 8.1تھی۔ سوئٹزرلینڈ کے زلزلہ پیمامرکز اور امریکی جیالوجیکل سروے کے مطابق پاکستان میں زلزلے کی شدت 7.7 تھی ‘ زلزلے کا مرکز افغانستان کے دارلحکومت کابل سے 265کلومیٹر دور شمالی کی طرف زیرزمین 193کلومیٹر گہرائی تھا۔ زلزلے کے نتیجے میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے185 سے زائد افرادجاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتالوں میں منتقلی کا عمل شروع کردیاگیا‘ وسیع تباہی کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، گجرانوالہ اور پشاور سمیت ملک کے کئی شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے جھٹکے مالاکنڈ، کوہاٹ، بھکر اور گرد و نواح میں بھی محسوس کیے گئے، جبکہ لاہور میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی محسوس کیا گیا۔ زلزلے کے باعث پشاور اور لاہور میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے موبائل فون سروسز رک گئیں جبکہ لوگ خوفزدہ ہوکر لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ زلزلے کے نتیجے میں باجوڑ ایجنسی میں عمارتوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے 4 افراد، کلر کہار میں ایک بچہ، قصور میں چھت گرنے سے ایک شخص، سرگودھا میں ایک شخص جبکہ سوات میں 6 افراد کے جاں بحق ہونے اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ سوات کے سیدو شریف ہسپتال میں 200 زخمیوں کو لایا گیا جہاں 6 افراد ہلاک ہوگئے۔ چترال میں بھی زلزلے کے باعث 2 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 100 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا اور شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔زلزلے کے باعث بٹگرام میں متعدد مکانات گرگئے جبکہ مالم جبہ میں زلزلے سے کئی مکانات کی چھتیں گر گئیں۔ پشاور کے وارسک روڈ پر ایک عمارت کا کچھ حصہ گر گیا۔ شمالی علاقہ جات کے مختلف حصوں میں موبائل ٹاورز اور بجلی کے کھمبے گر گئے جبکہ سرگودھا میں اسکول کی دیوار گرنے سے خاتون جاں بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہوگئے۔ علاوہ ازیں لوئر دیر میں کچے مکانات گر گئے ج۔ پشاور میں خیبر بازار اور ڈبگری کے علاقے میں عمارت گر گئی جس سے 20افراد زخمی ہو گئے۔ایبٹ آباد میں چھتوں اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں ہری پور میں مکان کی چھت گرگئی ، بٹگرام میں متعدد مکانات گر گئے۔ ادھر وزیراعظم نواز شریف نے سول ملٹری اور صوبائی اداروں کو متحرک ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ادارے پورے وسائل کے ساتھ شہریوں کی امداد کے لیے تیاررہیں جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوج کو کسی ہدایت کے انتظارکے بغیرمتاثرین کی امداد کی ہدایت کی ہے۔ جبکہ ایمرجنسی 1122 کو پنجاب بھر میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل 8 اکتوبر، 2005 کو 7.6 شدت کے زلزلے نے کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی۔ زلزلے کے نتیجے میں 80 ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ 2 لاکھ سے زائد افراد زخمی اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ آئی این پی ذرائع کے مطابق شدید زلزلے سے زمین تقریباً ایک منٹ سے زائد وقت تک لرزتی رہی جبکہ موبائل فون سروس بھی متاثر ہوئی۔ زلزلے کے جھٹکے لاہور ، پشاور ،اسلام آباد، راولپنڈی ، سوات ، مالاکنڈ، مری ، ایبٹ آباد، مظفرگڑھ ، رحیم یارخان ، سوات ، تلہ گنگ ، میانوالی ،خیرپور، کوئٹہ ، اور سرگودھامیں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی وجہ سے کئی مقامات پر موبائل فون ٹاور بھی گر گئے جس کی وجہ سے موبائل فون سروس بھی معطل رہی اور بیشتر علاقوں میں آخری اطلاعات تک انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہوئی۔ جنوبی پنجاب میں مکانات میں دیواریں گرگئیں جبکہ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی بھی ٹائلیں اکھڑ گئیں اور ججز سماعت چھوڑ کر باہرنکل آئے ‘ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی تمام مقدمات کی سماعت روک دی گئی۔ ذرائع کے مطابق آزاد اور مقبوضہ کشمیر ، بھارت میں ہماچل پردیش، ہریانہ اوردیگر ریاستوں ، افغان دارلحکومت کابل اور دیگر اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ادھر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد ملک بھر میں آفٹر شاکس محسوس کیئے جا سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں صورتحال میں مختلف تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔زلزلے یا آفٹر شاکس کی صورت میں کھلی جگہ پر جانے کی ہدایت کی ہے.