- الإعلانات -

نیپال میں پہلی مرتبہ خاتون صدر منتخب

کھٹمنڈو: گزشتہ مہینے تاریخی آئین منظور کرنے کے بعد نیپال کی پارلیمنٹ نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کو صدر منتخب کیا ہے۔

سابق وزیر دفاع بدھیا بندھاری کو صدر مملکت کے عہدے کیلئے 327 جبکہ ان کے حریف کل بہادر گورنگ کو 214 ووٹ ملے۔

حکمران کمیونسٹ پارٹی کی وائس چیئرپرسن بندھاری اب رام برن یادو کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ 240 سالہ پرانی ہندو بادشاہت ختم ہونے کے بعد یادو 2008 میں نیپال کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔

بندھاری نے لڑکپن میں بادشاہت ختم کرنے کے مطالبے کے ساتھ سیاست شروع کی اور بعد میں ساتھی کمیونسٹ مدن بندھاری سے شادی کی۔

تاہم، 1993 میں ایک حادثہ میں شوہر کے انتقال کے بعد بندھاری تیزی سے اوپر آئیں اور ہمدردی کا ووٹ جیت کر پارلیمنٹ پہنچیں۔

ابتدا میں صدر یادو کو صرف دو سال کیلئے عہدہ سنبھالنا تھا، لیکن ملک میں سیاسی کشیدگی کی وجہ سے نئے متفقہ آئین کو لانے میں تاخیر ہوئی۔

ملک کی پہلی خاتون سپیکر پارلیمنٹ ماگر کے بعد 54 سالہ بندھاری دوسری خاتون ہیں جو سینئر ترین عہدے تک پہنچیں۔

نئے آئین کے تحت پارلیمنٹ نے رواں مہینے نئے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو بھی منتخب کیا ہے۔

ماؤ باغیوں کی جانب سے اسلحہ ڈالنے اور سیاسی دھارے میں شامل ہونے کے بعد 2008 میں نئے آئین پر کام شروع ہوا تھا لیکن سیاسی کشیدگی کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔