- الإعلانات -

نئے وزیراعظم کا حلف اور پی ٹی آئی قیادت پرالزامات

چار دن کی سیاسی ہلچل کے بعد مسلم لیگ کے شاہد خاقان عباسی صاحب بڑی واضح اکثریت سے وزیر اعظم قرار پائے اس انتخاب میں دیگر امیدواروں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر اور جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی حصہ لیا جو جمہوری عمل کا حصہ ہے اور خوش آئند امر ہے۔ نئے وزیراعظم نے حلف لیتے ہی جو پھلجھڑیاں اور شگوفے چھوڑے ہیں وہ مضحکہ خیز ہیں ۔مثلاً ایک سوال کے جواب میں کہ آپ کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا نئے وزیراعظم نے فرمایا کہ انہیں پالیسیوں پر عمل ہوگا جو گزشتہ جمعہ کے روز دن کے بارہ بجے تک نافذ العمل تھیں باالفاظ دیگر انہوں نے فرمایا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے سے نا اہل غیرصادق اور غیر امین اور سبکدوش ہونے والے سابق وزیر اعظم کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوں گے قومی اسمبلی میں اپنے انتخاب کے بعد عدالتی فیصلے پے تنقید اور تشنیع نہیں بھولے فرمانے لگے کہ اس فیصلے کو تاریخ قبول نہیں کرے گی اور بہت جلد سابق نا اہل وزیراعظم ایک بار پھر اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے جس کا ہمیں یا کسی اور کو دور دور تک امکان نظر نہیں آتا پتہ نہیں انہوں نے یہ خیال آرائی کس علم و آگہی کی بنا پر کی ۔کاش معزز عدلیہ ان سے ان کے بیان کی وضاحت طلب کرے کہ آپ کے اس فرمان کا پس منظر کیا ہے منتخب وزیراعظم اسمبلی کے ممبران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کو زبردستی گواہ بنا کر اپنے الفاظ لوگوں کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے رہے کہ سابق وزیراعظم نے ہمیں کبھی کرپشن کرنے کیلئے نہیں کہا فلاں آپ بھی ہمارے ساتھ تھے کیا کبھی وزیراعظم نے آپ کو کرپشن کیلئے کہا یا کبھی کرپشن میں حصہ مانگا جس پر شیخ رشید احمد نے شدید احتجاج کیا شیخ رشید احمد نے اس موقع پر اسمبلی سے خطاب کیا اور خواہش کا اظہار کیا کہ کاش وزیراعظم خارجہ امور پر بھی کچھ فرمادیتے ۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ موجودہ قومی قرضوں کا حجم 70 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس کے نصف 2013 کے بعد لئے گئے قومی برآمدات 25 ارب ڈالر سے گرکر 20 ارب ڈالر پر آگئی ہیں اور درآمدات 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور قطر کے ساتھ ہونے والی گیس ڈیل کا کوئی ریکارڈ منظرعام پر نہیں تو نو منتخب وزیراعظم نے کہا کہ اس پر ان سے ڈبیٹ کی جا سکتی ہے جس کا چیلنج شیخ رشید احمد نے قبول کر لیا ۔اسمبلیوں کا قانون ہے کہ اسمبلی کے اندر کسی قسم کی ہورڈنگ یا اشتہاری کتبے یا تصاویر کے داخلے کی اجازت نہیں لیکن وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر ہر مسلم لیگی ممبر قومی اسمبلی نے اسمبلی میں داخلے کے موقع پر سابق نا اہل وزیر اعظم کی خاصی بڑی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جس پر اسپیکر نے پھیکی سی فہمائش کی اور تصویریں نیچے رکھنے کا کہا لیکن منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم قومی اسمبلی میں ایوان سے جب خطاب کر رہے تھے تو اس وقت ان کے پوڈیم کے سامنے کی جانب بھی یہی تصویر آویزاں تھی اور اسپیکر قومی اسمبلی کی نشست کے بالکل مقابل اور محترم اسپیکر نے کوئی نوٹس نہیں لیا سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک شخص جو مستند سزا یافتہ ہے اس جماعت کیلئے اتنا ناگزیر کیوں ہے کہ وہ خود نہ سہی تصویر سے کسب فیض ہو رہا ہے۔ وطن عزیز میں یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک شخص یا ایک خاندان اتنا اہم کیوں ہے؟ کیا اس ملک میں قحط الرجال ہے کہ ایک معزز ممبر اسمبلی کو مشروط طور پر 45 دن کیلئے وزیراعظم بنایا کیا نو منتخب وزیراعظم کی صلاحیت اور ذہانت پر کوئی شبہ ہے یا وفا مشتبہ ہے ۔ نئے وزیراعظم پڑھے لکھے ہیں اور امریکہ پلٹ ہیں 45 دن بعد پھر خاندان کے ایک فرد کو وزیراعظم کے طور پر لایا جائے گا کیا یہ خاندانی بادشاہت نہیں ہے ؟ اور پورے ممبران محض تابع مہمل ؟ ایک سابق وفاقی وزیر ببانگ دہل کہتے رہے کہ کتنے شریف نکالو گے ہم ہر شریف کے بعد دوسرا شریف لاتے رہیں گے۔ یہ پیغام کس کیلئے تھا سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہئے حزب اقتدار سے ہمیشہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاست اور سیاست دانوں کے معاملے میں بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرے گی لیکن آج ممبر قومی اسمبلی شیخ رشید احمد پر اسمبلی سے نکلتے ہوئے نہ صرف حملہ کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ بقول شیخ رشید احمد قومی اسمبلی کے دو معزز ارکان نے انہیں ان کی گردن کاٹنے کی دھمکی بھی دی ہے اور شیخ رشید احمد کی جانب سے اس دھمکی کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں درج کرا دی گئی ہے جس پر پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے ۔متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ ایک معزز ممبر قومی اسمبلی شیخ رشید احمد کی جان و مال کو مناسب تحفظ فراہم کیا جائے دوسری جانب پی ٹی آئی کی ایک خاتون رکن قومی اسمبلی نے عمران خان پر ذاتی کردار کے حوالے سنگین الزامات لگائے ہیں کہ عمران کا پارٹی میں موجود خواتین کے ساتھ رویہ نہایت نا مناسب ہے جس کو بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو کرپٹ قراردے دیا جہانگیر ترین پر بھی الزام لگایا کہ وہ کے پی کے میں سرکاری ٹھیکے خود لیکر عمران خان کا کچن چلاتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ محترمہ پر یہ تمام انکشافات کب ہوئے اور انہیں کب اس بات کا پتہ چلا کہ عمران خان کا کردار کیسا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کل شام کو بنی گالہ میں عمران خان کے سامنے آئندہ انتخابات کیلئے ٹکٹ کی ضمانت مانگتی پائی گئیں جبکہ عمران خان کا جواب تھا کہ امیدواروں کا انتخاب وہ ذاتی طور پر نہیں کرتے بلکہ پارلیمانی بورڈ کی سفارش پر ہی یہ ممکن ہوگا اور ابھی انتخابات بھی دور ہیں اور بورڈ کی میٹنگ بھی نہیں جس کی گواہی ایک نجی ٹی وی کے اینکر نے بھی دی جو اس وقت عمران خان کے انٹرویوز کیلئے اپنی ٹیم سمیت وہاں موجود تھے محترمہ عمران خان کا جواب سن کر چلی گئیں اور آج پریس کانفرنس کھڑکادی۔ اپنے پشتون اور غیرت مند ہونے کا بطور خاص تذکرہ کرنا نہیں بھولیں بے شک پشتون بھی دیگر قوموں کی طرح غیرت مند قوم ہے لیکن کیا محترمہ سے پوچھا سکتا ہے کہ ان کی جواہر خرد کیسا لباس زیب تن فرما کرکھیلتی ہیں کیا کوئی مسلمان خاتون ایسا لباس پہن سکتی ہے عمران خان کو جعلی پٹھان قرار دیا اور نیازی کی گردان رٹتی رہیں کیا کوئی ان بظاہر پڑھی لکھی خاتون کو بتا سکتا کہ نیازی قبیلہ پشتونوں کا بہت بڑا قبیلہ ہے کہیں محترمہ یہ تو نہیں سمجھ بیٹھیں کہ پٹھان صرف پشتو بولنے والا ہی ہوتا ہے کیا یہ انکشاف بھی ان پر کل ہی ہوا ۔لگتا ہے کہ اسمبلی میں اپنی کارکردگی سے عدم اطمینان کے باعث نئی اسمبلی کے ٹکٹ کی ضمانت پر بضد تھیں شاید کہیں اور سے انہیں کوئی آفر ہوئی ہو حال ہی میں پی ٹی آئی چھوڑ جانے والی ناز بلوچ نے ان الزامات کی قطعی تردید کی کہ پچھلے سات سال میں ان کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ سب مرد حضرات نے بے حد عزت دی پہلے تو صحافیوں کو کہتی رہیں کہ ان کے پاس کچھ متنازعہ میسج موجود ہیں جب صحافیوں نے ثبوت مانگے تو کہنے لگیں ٹی آر اے سے ریکارڈ نکلوالیں اس پریس کانفرنس میں ایک نیلے پیلے چینل کے نمائندے خصوصی دلچسپی اور لقمے دیتے رہے غبارے سے ہوا نکلتی دیکھ کر محترمہ نے کھسکنے میں عافیت جانی اور تاحال ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں چھوٹے چھوٹے مفاد کیلئے لوگ کس سطح پر اتر آتے ہیں اللہ ہمیں اپنی آبرو اور وقار کے تحفظ کی توفیق دے عمران خان کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے بلکہ قانونی کارروائی کے آپشن پر غور کرنا چاہئے اللہ وطن اور اہل وطن کے وقار عزتوں کی حفاظت فرمائے ۔آمین