- الإعلانات -

کالاباغ ڈیم اپنے دور میں شروع کراؤں گا: جاوید شاہ

اسلام آباد(عزیراحمد خان)لوگ کہتے ہیں مستقبل کی جنگیں پانی پر ہونگی۔بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔پاکستان ایک زرعی اورتوانائی والا ملک ہے اگر پانی پر ہم نے توجہ نہ دی تو اس سے زراعت بھی متاثر ہوگی ۔لہذا ان مسائل کوحل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اسی وجہ سے اس وزارت کو دوحصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے ۔تاکہ ملک میں ڈیم بنائے جاسکیں کیونکہ پرانے ڈیم سلٹ اپ ہورہے ہیں ۔بھارت میں اس وقت تین ہزار سے کچھ زائد اور چین میں آٹھ ہزارکے قریب چھوٹے ،بڑے ڈیم ہیں ۔ہمیں بھی چھوٹے ڈیموں کی جانب سے توجہ دینی چاہیے ۔بھارت کی من مانی کی وجہ سے ہمیں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔جب بھی ہم ڈیم کے حوالے سے کوئی بات کرتے ہیں تو اس پر سیاست شروع ہوجاتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے آبپاشی جاوید علی شاہ نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ فضل حق لیڈر بننا چاہتا تھا تو اس نے اپنے علاقے کے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے بیان دیا کہ کالا باغ ڈیم میری لاش کے اوپر بنے گا ۔اس بیان سے بے تحاشا نقصان ہوا اگر کے پی کے والے کہتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بننے سے نوشہرہ ڈوب جائے گا اورسندھ والے کہتے ہیں کہ ان کے پانی کا حصہ کم ہوجائے گا جبکہ سندھ کے پاس خود مانیٹرنگ ہوگی اس کے پتہ ہوگا کہ کتنا پانی کہاں جارہا ہے ۔شمس الملک جب ممبر پاور تھے ،ایک اجلاس کے دوران جس میں فاروق لغاری،ظفرعلی شاہ اور میں بھی شامل تھا وہاں پرشمس الملک نے کھری کھری باتیں کیں اور کہا کہ اگر کالا باغ ڈیم نہ بنا تو ملک ریگستان بن جائیگا مگرپھر یہ مسئلہ سیاست کی نذر ہوگیا اس مسئلے پر ہر مکبتہ فکر زندگی کے لوگوں کو بٹھانا ہوگا ۔کالا باغ ڈیم کے مخالفین یا ہمیں قائل کرلیں کہ اس کے بننے سے کیا نقصان ہوگا یا پھر ہمیں انہیں قائل کرلیں گے کہ اس کے کیا فوائد ہونگے میری اولین کوشش ہوگی کہ کالا باغ ڈیم اپنے دور میں شروع کروں اور انشاء اللہ یہ ڈیم بنے گا ۔ہمیں پانی کے مسئلے پر قدم اٹھانا ہوگا ہم کالا باغ ڈیم بنوائیں گے ،اسے شروع کریں گے اور تمام سیاستدانوں اور لوگوں کو اس معاملے پر اعتماد میں لیں گے۔میری پہلی کوشش ہوگی کہ میں پہلے پاکستانی بن کر سوچوں بعد میں سیاستدان بنوں ۔ہمیں کالا باغ ڈیم کے بنانے کے ابہام سے نکلنا ہوگا اور مجھے بہت زیادہ امید ہے کہ ہم اس مسئلے پر تمام لوگوں کو راضی کرلیں گے۔ہماری لیڈر شپ کی بھی خواہش ہے کہ کالا باغ ڈیم بنے ۔میری پوری کوشش ہے کہ اپنے منصب پردیانتداری سے کام کروں ۔ہمیں چھوٹے چھوٹے ڈیموں پر بھی توجہ دینا ہوگی ۔یہ ندی ،نالے اور آبشاریں جو بہتی ہیں ان کے پانی کو ہی اکٹھا کرلیا جائے تو ہم پانی کے معاملے میں خود کفیل ہوسکتے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکام ان چیزوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پانی زندگی کی علامت ہے ہمارے دریا بہنے چاہئیں ۔بھارت جوپانی بند کردیتا ہے اس سے نقصان ہوتا ہے جب زمین پرپانی نہیں ہوگا تو زیرزمین پانی زہریلا بن جائے گا ۔اس وجہ سے ہیپاٹائٹس پھیلنے کے خدشات پیدا ہوجاتے ہیں ۔میں یہ واضح کرتا چلوں کہ ہمیں بھارت سے کبھی بھی اچھائی کی امید نہیں اگر ہم دنیا میں یہ کیس لیکر جائیں تو یقینی طور پر ہم دنیا کو اپنا ہمنوا بنا سکتے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ چند روز میں ہم فورم میں بیٹھ کر پانی کے حوالے سے نہ صرف بھارتی کردار کو زیربحث لائیں گے بلکہ درپیش اس مسئلے کو بھی حل کریں گے ۔سیاست اپنی اپنی ،ملک اپنے اپنے مگر مسائل کو حل کیا جاتاہے ۔اگر ہم بھی مختلف معاملات پر سٹینڈ لیں تو بھارت کیلئے مسائل بن سکتے ہیں ۔ہم انشاء اللہ اپنے عمل سے بلوچستان کے حوالے سے حاصل بزنجو کا جو خدشہ ہے اس کوغلط ثابت کرسکتے ہیں ۔ہمیں پانی کے بنیادی مسئلے پر توجہ دینا ہوگی میں قطعی طور پر مایوس نہیں ہوں اور شاید اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پانی کے مسئلے کو حل کرانا ہے ۔شاید اسی وجہ سے اس نے مجھے اس وزارت کیلئے منتخب کیا ہو ۔کا لا باغ ڈیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے تو اس حوالے سے اتنی آواز اٹھائی کہ لوگ مجھے کالا باغ شاہ کے نام سے ہی پکارنے لگے ۔تو میں اس مسئلے کو انشاء اللہ ترجیحی بنیادوں پر حل کروں گااور کوئی بھی کسر نہیں چھوڑوں گا۔بھارت نے بگلہیار ڈیم وغیرہ بنا لیے ہیں ۔ایسے ڈیم ہمیں بھی بنانے چاہئیں تھے اس سلسلے میں ہمیں بین الاقوامی دروازوں کو کھٹکھٹانا ہوگا ۔نیازی صاحب آپ یہ دیکھیں کہ ہم سے پہلے انرجی کا کتنا بڑا مسئلہ تھا ہماری حکومت نے اسے کافی حد تک حل کرلیا ہے ۔پنجاب میں پانی کے مسئلے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف انتہائی عملی سیاستدان ہیں ۔وہ جہاں بھی ہوں مسائل حل کرا دیتے ہیں ۔ان کی حکومت نے بہت کم وقت میں پاور پلانٹس کو مکمل کیا ہے ۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا شہباز شریف وزارت عظمیٰ کی جانب آئیں گے جبکہ کچھ دوست انہیں پنجاب میں رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ شہباز شریف وہ سیاستدان ہیں کہ وہ جہاں بھی جائیں وہیں پر مسائل حل ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کالا باغ ڈیم پر تمام سیاستدانوں اور رہنماؤں کو ساتھ لیکر چلیں گے ،انہیں ایک میز پر بٹھائیں گے ،اس حوالے سے وہ ہمیں قائل کرلیں یا ہم انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔انشاء اللہ کالا باغ ڈیم ضرور بنے گا ۔پنجاب میں شہباز شریف نے پینے والے پانی کا مسئلہ حل کیا ہے ۔اس پر ہوم ورک ہوچکا ہے ،کام بھی ہورہا ہے ،گذشتہ برس اربوں روپے اس مد میں رکھے گئے ۔اس میں ایک بڑی مشین یا پلانٹ لگا کر اس سے چھوٹی بستیاں منسلک کردی گئی ہیں ۔یہ کام لودھراں سے شروع ہوا ہے اب ملتان بھی اس میں شامل ہوگیا ہے ۔اسی طرح سے دیگر اضلاع میں بھی یہ کام ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف جس جگہ پہنچ جائیں وہاں نقشہ بدل دیتے ہیں ۔زیادہ وزارتوں کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی ممبر بنتا ہے تو اس کے حلقے کے ووٹرز کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کو بھی نمائندگی ملے اس سے پہلے بھی 44کے قریب وزیر ومشیر تھے ۔اب 47ہوگئے ہیں ہوسکتا ہے کہ اب مزید مشیر نہ بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف جھگڑے کی سیاست کی طرف نہیں جاتے ۔اس ملک میں متعدد مرتبہ مارشل لاء لگ چکا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں ساری فوج شامل ہے چند لوگوں کے ایکٹ کی وجہ سے ساری فوج بدنام ہوتی ہے ۔نہ ہی ساری فوج اور نہ ہی سارے سیاستدان برے ہوتے ہیں ۔بعض اوقات بین الاقوامی سازش بھی ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے مگر عوام نے قبول نہیں کیا ۔کوئی بھی فیصلہ ہو تو اس کیخلاف متعلقہ لوگ اپیل میں جاتے ہیں لیکن یہ کیسا فیصلہ ہے جس میں اپیل کا حق نہیں ۔جہاں تک 62اور 63کی بات ہے یہ تو پھرصفت پیغمبری ہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سازشیں سامنے آئینگی اور تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کرے گی ۔میاں صاحب تین دفعہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے منصب پر فائز ہوئے مگر ان تینوں ادوار کو دیکھا جائے تو کبھی ان کا ایک سکینڈل بھی سامنے نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا میڈیا ٹرائل ہوا ہے تاہم انہوں نے ایک بات کہی کہ مختلف ٹی وی چینلز پر جو بھی اینکرز بولتے ہیں وہ مالک کی ہی زبان ہوتی ہے مگر ہمیں خوش قسمت ہوں کہ وزارت ملنے کے بعد روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں آیا ہوں ۔ایس کے نیازی اور روز نیوز کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ وطن اور وطنیت کو ہی پروان چڑھایا اور جو حقیقی مسائل ہوتے ہیں وہ ہمیشہ سامنے لے کر آئے ۔نیازی صاحب آپ جیسے اینکر پرسنز بہت کم ہوتے ہیں جو حقیقت پر مبنی گفتگو کریں ۔جن کے مدمقابل وطن عزیز ہو اور وہ اس کی استحکام اور آبرو کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
جاوید علی شاہ