- الإعلانات -

بنگلہ دیش میں آپوزیشن رہنماوں کی سزائے موت کاحکم برقرار رکھا گیا ہے

ڈھاکا: بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے 1971 کی جنگ کے دوران پر تشدد واقعات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپوزیشن رہنما کو سنائی جانے والی سزائے موت کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں علی احسن محمد مجاہد اور صلاح الدین قادر چوہدری کی اس آخری اپیل کو مسترد کیے جانے کے بعد ان کی سزائے موت پر ائندہ ہفتے عمل درامد ہوگا۔اٹارنی جنرل محبوب عالم کا کہنا تھا کہ ’فیصلے پوری قوم کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں اور اب ان کو پھانسی دینے میں کوئی قانونی روکاوٹ نہیں ہے۔‘خیال رہے کہ 67 سالہ مجاہد ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت ’جماعت اسلامی‘ کے دوسرے اہم سینئر رہنما ہیں جبکہ صلاح الدین چوہدری ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیاءکے خصوصی مشیر ہیں۔یاد رہے کہ وہ اور ان جیسے دیگر درجنوں اپوزیشن رہنماو¿ں کو حکومت کی جانب سے 2010 میں قائم کیے جانے والے جنگی جرائم کے متنازع ٹریبونل نے سزائے سنائی ہیں۔ان الزامات میں کہا گیا ہے کہ آزادی حاصل کئے جانے کے بعد 1971 میں جماعت کے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 500 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سپریم کورت کے حالیہ فیصلے سے ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب ہوسکتی ہے۔یاد رہے کہ ملک میں جاری حالیہ کشیدگی کے دوران متعدد سیکولر بلاگرز اور دو غیر ملکیوں کو قتل کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے بعد جماعت کے ہمدردوں کی جانب سے حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کے مبینہ احتجاج کو روکنے کے لیے حکام نے فیس بک، پیغامات اور وائس کال سروس وائبر، واٹس ایپ کو فوری طور پر بلاک کردیا ہے۔بنگلہ دیش کے ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کمیشن کے شاہجہاں محمود کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی ہدایت پر ہم نے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔‘سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جماعت نے ملک گیر احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجاہد کو ٹرائل کے ذریعے سزا موت دینے کا مقصد پارٹی کو لیڈر شپ سے محروم کرنا ہے۔ادھر ایک نامعلوم مسلح شخص نے بنگلہ دیش کے شمالی ضلع دناجپور کے علاقے میں ایک مذہبی رہنما کو شدید زخمی کردیا ہے۔فوری طور پر واقعے کی ذمہ داری کسی بھی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔دوسری جانب بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک میں داعش کی موجودگی کو مسترد کیا ہے اور بی این پی اور اس کی اتحادی جماعت اسلامی کو واقع کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ مجاہد کو حکومت کے قائم کردار ٹریبونل نے 1971 کے واقعات میں مسلح ملیشا کی سربراہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 2013 میں سزائے موت سنائی تھی۔انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریبونل کی پروسیڈننگ عالمی معیار کے مطابق نہیں تھی۔