- الإعلانات -

سعودی عرب کے شہر ریاض میں گونگے بہرے بچے قرآن سیکھنے لگے

ریاض:سعودی عرب میں دو میاں بیوی نے رضاکارانہ طور پر گونگے اور بہرے بچوں کو قرآن کریم تجوید کے ساتھ پڑھانے کے ساتھ ساتھ انہیں حفظ کرانے کا منفرد سلسلہ شروع کردیا۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی شہری سلطان الحمود اور ان کی اہلیہ وفاءالحمید نے خود کو گونگے بہرے بچوں کو قران کریم سکھانے کے لیے وقف کیا ہے۔ سلطان الحمود کے پاس ایسے 20 بچے ہیں جب کہ وفاءالحمیدان پانچ گونگی بہری بچیوں کو القصیم کی الرس گورنری میں واقع جامع مسجد الشیخ صالح الحناکی میں ہفتہ وار تعلیم دیتے ہیں۔سلطان حمود کے گونگے بہرے شاگردوں نے دو سال میں قرآن کریم کا آخری پارے کا حفظ مکمل کر لیا ہے اور وہ پورا قرآن کریم حفظ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ خصوصی بچوں کو قرآن کریم سکھانے کا یہ باعث برکت کام نماز مغرب اور عشاءکے درمیان انجام دیا جاتا ہے۔گونگے بہرے بچوں کے استاد سلطان حمود سے پوچھا گیا کہ گونگے بہرے بچوں کو قرآن کیسے سکھاتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ان بچوں کو اشاروں کی مدد سے حروف کی شناخت کرائی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہیں الفاظ سکھائے جاتے ہیں۔ بچے کاغذ پر لکھ کر درست حروف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خاص طورپر گونگے بچے زبانی یاد کیے گئے سبق کو لکھ کر پیش کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بیشتر طلباءآخری سپارہ حفظ کر چکے ہیں اور وہ پورا قرآن پاک حفظ کرنے کے خواہاں ہیں۔