- الإعلانات -

کینیڈا میں رواں سال صرف دس ہزار پناہ گز ینوں کو داخلے کی اجازت ہوگی

کینیڈا نے کہا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر تک صرف دس ہزار شامی پناہ گزینوں کی آباد کاری کرے گا جبکہ اس سے قبل کینیڈا نے اس سے دگنی تعداد کو بسانے کا وعدہ کیا تھا۔تاہم حکومت کا کہنا تھا کہ وہ اگلے سال فروری کے آخر تک مزید 15 ہزار شامی پناہ گزینوں کو لانے کے وعدے پر قائم ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل کینیڈا کی جانب سے رواں سال کے آخر تک 25 ہزار پناہ گزینوں کی آباد کاری کا وعدہ کیا گیا تھا۔حکام کے مطابق پناہ کے لیے جن لوگوں کی درخواست پر غور کیا جائے گا ان میں خاندان، خطرے کا شکار خواتین اور ہم جنس پرست مرد اور خواتین شامل ہیں۔کینیڈا کے خبر رساں ادارے سی بی سی نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے آباد کاری صرف خواتین، بچوں، اور خاندانوں تک محدود کر دی جائے گی۔ملک کی نو منتخب لبرل حکومت نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں بسانے کا عہد کیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ آباد کاری میں تعطل کی وجہ حفاظتی خدشات نہیں ہیں۔کینیڈا میں شامی پناہ گزینوں کی آباد کاری وزیر اعظم جسٹن ٹ?روڈو کی انتخابی مہم کا اہم حصہ تھی۔پناہ گزینوں اور شہریت کے کینیڈیئن وزیر جان میک کالم کا کہنا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ان کے سروں پر چھت ہو، اور انھیں صحیح سہارا ملے۔’ان تمام چیزوں کو عملی جامہ پہنانے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ اپنے دوستوں کو ملک میں لانے کے لیے اضافی وقت لینے میں ہمیں کوئی عار نہیں ہے۔‘میک کالم کا کہنا ہے کہ شامی پناہ گزینوں کی نقل مکانی کے عمل کو سست کرنے کے حکومتی فیصلے کی وجہ پیرس میں ہونے والے حملے نہیں ہیں بلکہ نقل وحرکت میں حائل دشواریاں ہیں۔کینیڈا میں بسائے جانے والے پناہ گزین نجی طور پر سپانسر بھی ہوں گے اور حکومت بھی انھیں لائے گی تاہم صرف وہی پناہ گزیں کینیڈا آ سکیں گے جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں یا پھر ترکی کی حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوں گے۔حکومتی اہلکاروں نے وعدہ کیا ہے کہ پناہ گزینوں کی صحت اور سیکیورٹی کی ’جامع‘ جانچ پڑتال سمندر پار ہی کر لی جائے گی جبکہ فوجی اور نجی طیاروں کی مدد سے انھیں کینیڈا لایا جائے گا۔پناہ گزینوں کی ’منزل‘ طے شدہ 36 شہر ہیں جن میں سے 12 صوبہ کیوبک میں واقع ہیں۔