- الإعلانات -

‘بھارت کے دیگر ممالک سے تنازعات میں امریکا غیرجانبدار رہے گا’

واشنگٹن: امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ امریکا کے قریبی تعلقات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر ان کا کسی اور ملک کے ساتھ مسلح تنازع ہوتا ہے تو واشنگٹن، نئی دہلی کی حمایت کرے گا۔

ایک نیوز بریفنگ کے دوران جب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ سے سوال کیا گیا کہ اگر اگلی مرتبہ بھارت کا پاکستان کے ساتھ کوئی تنازع ہوتا ہے تو کیا نئی دہلی کو واشنگٹن کی مکمل حمایت حاصل ہوگی؟ جس پر ترجمان نے جواب دیا، ‘مجھے ابھی ایسا نہیں لگتا’۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے 18 اکتوبر کو واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب میں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ امریکا، بھارت کے ساتھ ڈرامائی طور پر گہرے روابط استوار کرنے جا رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ‘سیکیورٹی مسائل کے حوالے سے جو خدشات بھارت کو ہیں، وہ ہمیں بھی ہیں’۔

واضح رہے کہ ریکس ٹیلرسن آئندہ ہفتے جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی پر بات چیت کی غرض سے اسلام آباد اور نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔

ریکس ٹیلرسن کے ریمارکس کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ ‘باہمی مفادات’ کے حوالے سے بات کر رہے تھے، جیسا کہ دونوں ملک فوجی مشقوں سے لے کر انٹیلی جنس معلومات کے حصول اور انسداد دہشت گردی سمیت بہت سے شعبوں میں پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ‘امریکا اس بات کو سراہتا ہے کہ کس طرح بھارت، افغانستان میں انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مدد فراہم کر رہا ہے اور کس طرح وہ افغانستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کر رہا ہے، ہم بھارت کے بہت شکرگزار ہیں’۔

ترجمان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مزید کہا، ‘میرا خیال ہے کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلرسن ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ بہت سے شعبے ایسے ہیں جہاں ہم باہمی تعاون کے ساتھ کام کر سکتے ہیں’۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین اکثرو بیشتر لفظی جنگ ہوتی رہتی ہے تو کیا اگلی مرتبہ جب یہ ہوگی تو اس کا مطلب ہے کہ امریکا کسی کی طرفداری کرے گا؟

جس پر ترجمان نے جواب دیا، ‘میرا خیال ہے کہ ہم ہمیشہ سے ان معاملات کے حل کے حوالے سے بہت محتاط رہے ہیں اور ہم مزید پیچیدگیوں میں نہیں پڑنا چاہتے’۔

واضح رہے کہ ریکس ٹیلرسن نے اپنے حالیہ بیانات میں پاک-امریکا تعلقات پر بھی روشنی ڈالی تھی۔

ان کا کہنا تھا، ‘پاکستان بھی جنوبی ایشیاء میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ہے، اس خطے میں ہمارے تعلقات ممالک کے اپنے میرٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں’۔

ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے جو کہ نہ صرف اس کے اپنے شہریوں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی کا مقصد پورے جنوبی ایشیائی خطے میں امن و استحکام کو فرغ دے کر مسئلہ افغانستان کو حل کرنے کی ایک کوشش تھی۔

ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ اگر جنوبی ایشیاء سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان اور افغانستان کو ہی ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا، ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ سرحدی معاملات کے حوالے سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، انہوں نے کہا، ‘پاکستان کو اپنی 2 سرحدوں پر مسائل کا سامنا ہے اور ہم ان دونوں کے حوالے سے مسائل کے خاتمے کے لیے کام کریں گے تاکہ پاکستانی حکومت مستحکم ہو اور اس کے خطے میں تعلقات بہتر ہوں’۔