- الإعلانات -

مصر میں یونیورسٹی کے اندر طالبہ کو ہراساں کرنے کی وڈیو وائرل

قاہرہ: مصر کی سب سے بڑی جامعہ میں ایک گروپ کی جانب سے طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر کی سب سے بڑی سرکاری درس گاہ قاہرہ یونیورسٹی میں سرِ عام درجنوں طلبا نے ایک طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کیا ۔منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گلابی شرٹ میں ملبوس ایک لڑکی سر ڈھانپے یونیورسٹی کے احاطے سے گزر رہی تھی کہ مردوں کے ہجوم نےاسے آگھیرا اور اس کےساتھ ساتھ چلتے رہے۔

صورتحال کے پیش نظر لڑکی نے چلنے کی رفتار تیز کردی اور خود کو مردوں کے جھنڈ سے نکالنے کی کوشش کرتی رہی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ لڑکی کو ہراساں کرنے کا معاملہ پرُہجوم مقام پر یونیوسٹی کے عین مرکز میں پیش آیا اور اس دوران بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اس پورے منظر کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔

لڑکی کو ہراساں کرنے پر یونیورسٹی گارڈ ز نے کوئی جنبش نہ کی اور پورے منظر کو چپ چاپ کھڑے ہوکر دیکھتے رہے۔جب لڑکی کی مدد کے لیے کوئی آگے نہ بڑھا تو اس نے خودکو باتھ روم میں بند کردیا اور کافی دیر بعد  انتظامیہ نے اسے بحفاظت یونیورسٹی سے باہر بھیجا۔

دوسری جانب  لاء اسکول قاہرہ یونیورسٹی کے ڈین  گیبر نصیر نے متاثرہ لڑکی سے اظہارِ ہمدردی اور معاملے کی تحقیقات کرانے کے بجائے الٹا لڑکی کو ہی تمام تر معاملے کا ذمہ دار ٹھہرادیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ لڑکی کے ساتھ ہوا اس کی ذمہ دار خود لڑکی ہے کیونکہ اس  کی وضع قطع انتہائی متنازع تھی۔ لڑکی یونیورسٹی میں عبایا پہن کر داخل ہوئی لیکن فیکلٹی میں پہنچ کراس نے عبایا اتار دیا اور چست کپڑوں کی وجہ وہ مردوں کی نظروں کا نشانہ بنی۔

ویڈیو وائرل ہونے پر سوشل میڈیا صارفین نے واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی سے معاملے کی تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات کو جنسی ہراساں جیسے واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے فول پروف انتظامات کرنے پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک تحقیق کے مطابق خواتین کو جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات میں قاہرہ شہر کا پہلا نمبر ہے جب کہ اس فہرست میں  بھارتی دارالحکومت  نئی دہلی بھی شامل ہے۔