- الإعلانات -

روس نے انقرہ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا

ترکی کی جانب سے روسی جنگی طیارے کو گرائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’آگ سے نہ کھیلے‘، جبکہ روس نے انقرہ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔نیٹو کی رکن ریاست کو سزا دینے کے لیے اقتصادی اقدمات اٹھاتے ہوئے روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترک شہریوں کے لیے جاری کیے جانے والے فری ویزے کو ختم کررہا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن کی جانب سے روسی شہریوں کو ترکی کا سفر نہ کرنے سے خبردار کیے جانے کے بعد ترک شہریوں کو یکم جنوری سے ویزا لینا ہوگا۔ترکی میں داعش کی جانب سے کیے جانے والے متعدد دہشت گردی کے حملوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’روس کو ترکی میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات پر تشویش ہے‘۔یہ بھی یاد رہے کہ 50 سال کے بعد پہلی بار کسی نیٹو رکن ملک نے روس کا جنگی طیارہ گرایا ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی نے ’حدود کو عبور‘ کیا ہے، ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ مذکورہ واقعے سے ترکی کے مقامی اور بین الاقوامی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ماسکو کا مزید کہنا ہے کہ مذکورہ واقعے کے باعث ترکی کے ساتھ شروع کیے جانے والے دو اہم منصوبے، گیس پائپ لائن اور جوہری بجلی گھر کا منصوبہ متاثر ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان روس کی جانب سے بشار الاسد کی حکومت کو شام میں مدد فراہم کرنے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوئے جبکہ ترکی شامی حکومت کے مخالف عسکریت پسند گروں کی حمایت کررہا ہے۔ادھر انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ’ہم روس کو تجویز دیتے ہیں کہ وہ آگ سے مت کھیلے‘۔اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے روس کو طیارے کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے شام میں بشار الاسد کی مدد کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔انھوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے فرانس میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی سمٹ میں وہ روس کے صدر سے براہ راست بات چیت کے خواہاں ہیں خیال رہے کہ ترکی کا کہنا ہے کہ روسی جنگی طیارے ایس یو 24 نے ان کی فضائی حدود کی خلاورزی کی تھی اور اس کے پائلٹ نے ترکی کی جانب سے جاری ہونے والی تنبیہ کو نظر انداز کیا تھا۔رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی نے ’جان بوجھ کر‘ روسی طیارے کو نشانہ نہیں بنایا۔انھوں نے شام میں کریملن کی پالیسی کے تحت ستمبر میں شروع کی جانے والی فضائی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے روس ’ایک قاتل‘ (بشار الاسد) کی مدد کررہا ہے نہ کہ داعش کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔