- الإعلانات -

مسلمانوں کے خلاف نھیں بلکہ داعش کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں،براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نھیں بلکہ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں تاہم جب تک مسلم ممالک اپنے گھروں سے شدت پسندی کا خاتمہ نہیں کردیتے تو اس وقت تک ”ڈومور“ کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔ کیلیفورنیا میں ہونے والے حملے کے بعد قوم سے پہلی بار خطاب کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے سماجی سینٹر پر حملہ کر کے معصوم لوگوں کو قتل کیا، ایف بی آئی حکام کیلیفورنیا واقعہ کے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ہمارے قریبی دوست اور اتحادی ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی تاہم کیلیفورنیا واقعہ کے بعد جنگ زدہ علاقوں سے آنے والے مہاجرین کی اسکریننگ سخت کر دی جائے گی۔ ہمارا فوکس شام اور داعش ہی رہے گئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان ممالک سے ”ڈو مور“ کا مطالبہ چھوڑ دیں جہاں شدت پسند نظریات کے حامل لوگ موجود ہیں، مجھے یقین ہے کہ ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے کیونکہ ہم حق پر ہیں۔ براک اوباما کا کہنا تھا کہ سربراہ ہونے کے ہونے کے باعث قوم کی حفاظت میری ذمہ داری بنتی ہے اور کیلیفورنیا واقعہ کے بعد امریکی مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مسلمان اس دہشت گرد تنظیم سے اپنی علیحدگی کا اظہار کر چکے ہیں، پیرس حملوں کے بعد اتحادیوں سے انٹیلی جنس شیئرنگ میں اضافہ کیا، شام کےبحران کا پرامن حل چاہتے ہیں اور ترکی سے شام کی سرحد بند کرنے پر بات چیت جاری ہے، داعش کے خلاف عراق اور شام کی مدد جاری رکھیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کےخلاف نہیں اور نہ ہی امریکا دنیا کے خلاف ہے، داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف لڑ رہےہیں جو ہمارے معصوم لوگوں کو مار رہی ہے، 65 ممالک داعش کے خلاف اتحاد میں شامل ہیں، داعش کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھی جائے گی، دہشت گرد جہاں بھی ہوئے انھیں ڈھونڈ نکالیں گے اور ان کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ دہشت گردوں کے خلاف ہماری حکمت عملی فضائی حملے ہو گی۔ براک اوباما نے کہا کہ گمراہ کن نظریات کے خاتمے کے لئے مسلم رہنماو¿ں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، داعش اسلام کی نمائندگی نہیں کرتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکا اورمسلمانوں کے درمیان نہیں، امریکی عوام اورمسلمان آپس میں دوست ہیں، مسلم کمیونٹی سے مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔