- الإعلانات -

قندھار کے ہوائی اڈے پر شدید لڑائی میں9افراد ہلاک

افغانستان کے شہر قندھار کے ہوائی اڈے پر شدید لڑائی میں کم از کم نو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔صوبائی حکومت کے ایک ترجمان کا کہا ہے کہ حملہ آور کمپلیکس کے پہلے گیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ قندھار افغان طالبان کا اہم مرکز رہا ہے۔ قندھار ہوائی اڈے میں نیٹو اور افغان افواج کے ہیڈکوارٹرز بھی قائم ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان سمیم خوپلوق نے صحافیوں کو بتایا کہ ’کئی باغیوں‘ نے حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے کمپلیکس کے اندر ایک سکول میں مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔قندھار ہوائی اڈے کے ڈائریکٹر احمداللہ فیضی نے بتایا ہے کہ لڑائی کے دوران کچھ مسافر ہوائی اڈے کے اندر پھنس گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں کے بارے میں قیاس ہے کہ فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں یا نہیں۔اطلاعات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات گئے تک لڑائی جارہی۔ایک طالبان نواز گروہ کا ایک ویب سائٹ پر کہنا ہے کہ انھوں نے یہ حملہ ’مقامی اور غیرملکی فوجوں‘ کے خلاف کیا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ برس بیشتر امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ حالیہ چند ماہ میں افغان طالبان نے جنگی میدان میں کئی کامیابیاں حاصل کیں ہیں جن میں قندوز شہر میں مختصر مدت کے لیے قبضہ بھی شامل ہے۔