- الإعلانات -

امریکہ میں تاریخ کے سب سے بڑے فراڈکا انکشاف

دنیا بھر کے افراد نے وہ منظر یقینا دیکھا ہوگا جب چاند پر بھیجے گئے امریکی مشن اپالو 11 میں شامل نیل ارمسٹرانگ نے اس سیارے پر پہلا قدم رکھا تھا۔ برسوں گزر جانے کے بعد بھی اس مشن پر سوالیہ نشانات ہیں کہ کوئی انسان کبھی چاند پر گیا ہی نہیں تھا۔ اب پتا چلا ہے کہ یہ سب کچھ جعلی تھا جو ہالی ووڈ کے ایک سٹوڈیو میں تیار کیا گیا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک خفیہ ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ہالی ووڈ کے انجہانی ہدایتکار سٹینلے کبرک نے تسلیم کیا ہے کہ 1969ئ میں چاند پر کوئی مشن نہیں گیا تھا بلکہ انہوں نے اس کی فلم بندی کی تھی۔ ہالی ووڈ کے ہدایتکار کی اس خفیہ ویڈیو کو 15 سال قبل فلم بند کیا گیا تھا۔ ان کی ویڈیو بنانے والے رپورٹر نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ویڈیو کو ان کی وفات کے 15 سال بعد افشائ کرے گا۔ اس کے چند ہی دن بعد سٹینلے کبرک کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس خفیہ ویڈیو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ چاند کی تسخیر پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات درست ہیں۔ یہ سب کچھ امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکی حکومت کی ایمائ پر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو اس تمام معاملے کا علم تھا۔سٹینلے کبرک کا کہنا تھا کہ وہ امریکی عوام سے معذرت خواہ ہیں کیونکہ انہوں نے ان سے دھوکہ دہی کی ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے امریکی حکومت اور ناسا کے کہنے پر مصنوعی چاند پر فلم بندی کی تھی۔ میں اس فراڈ پر امریکی عوام کے سامنے شرمسار ہوں۔