- الإعلانات -

ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر کے باہر با جماعت نماز کا اہتمام

امریکا میں آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شمولیت کے لیے کوشاں متنازع سیاست دان ڈونلڈ ٹرمپ جہاں مسلمانوں کے خلاف اپنے اشتعال انگیز بیانات پر قائم ہیں وہاں امریکا میں ان کے خلاف مسلمان کمیونٹی کے غم وغصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ روز نیویارک میں واقع ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر دفتر کے باہر تقریباً 200 افراد نے ان کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ٹرمپ کو ’’فاشسٹ‘‘ اور’’نسل پرست‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ بعد ازاں وہیں پر مظاہرین نے بہ جماعت نماز بھی ادا کی۔’’ٹرمپ ٹاور‘‘ کے باہر جمع بیسیوں مسلمانوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’فاشزم نہیں چاہیے‘‘، فاشزم اور نفرت کے پرچارک ٹرمپ نہیں چاہیے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔مظاہرے میں شریک 34 سالہ خایمی غونزلیز نے کہا کہ ہم نے یہاں پر جولائی میں بھی احتجاج کیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کے شہریوں کو منشیات اسمگلر، مجرم اور عصمت ریزی کے مرتکب لوگ قرار دیا تھا۔ آج ہم ایک بار پھر یہاں جمع ہیں۔ اس مظاہرے میں ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اشتعال انگیز بیان کی مذمت کر رہے ہیں۔نیویارک میں واقع رئیل اسیٹٹ کے ٹائیکون ٹرمپ ٹاور کے باہر صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند 69 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مٹھی بھر حامیوں نے بھی مظاہر