- الإعلانات -

د اﺅد ابراہیم کی گاڑی کو عوام کے سامنے نذرِ آتش کر دیا گیا

بھارتی حکومت نے انڈرو رلڈڈان د اﺅد ابراہیم کی گاڑی کو نئی دہلی کے قریب غازی آباد کے علاقے میں عوام کے سامنے نذرِ آتش کردی ۔بھارتی میڈیا کے مطابق انڈر ورلڈ کے مبینہ ڈان داﺅد ابراہیم کی گاڑی کو نئی دہلی کے قریب غازی آباد کے علاقے میں عوام کے سامنے نذرِ آتش کیا گیا ۔کار خریدنے والے شخص سوامی چکرا پانی کا کہنا ہے کہ ہماری تنظیم نے مذکورہ کار کو بدھ (23 دسمبر) کی دوپہر 1 سے 2 بجے کے درمیان غازی آباد کے اندراپورم میں نذرِ آتش کرنے کا فیصلہ کےا تھا۔چکراپانی، جو آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے ‘قومی صدر’ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کا کہنا تھا کہ کار کو نذرِ آتش کرنا، داو¿د ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے پورے ملک بالخصوص ممبئی میں کی جانے والی دہشت گردی کی آخری رسومات کی علامت ہوگا۔واضح رہے کہ داو¿د ابراہیم کی سبز ہنڈائی ایسنٹ کار کو چکرا پانی نے رواں ماہ 9 دسمبر کو ہونے والی نیلامی میں 32 ہزار کی بولی لگا کر خرید لیا تھا،۔چکرا پانی کے مطابق، “اس سے قبل میں اس گاڑی کو ایک ایمبولینس میں تبدیل کرنا چاہتا تھا، لیکن جب ڈی کمپنی (داوؤد ابراہیم گینگ) کے کارندوں نے مجھے نتائج کے لیے تیار رہنے کی دھمکیاں دیں تو میں نے انھیں ان ہی کی زبان میں جواب دینے کا فیصلہ کیا. میں اس گاڑی کو عوام کے سامنے جلانے جارہا ہوں۔چکراپانی کے مطابق انھیں کسی قسم کی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں، کیوں کہ وہ ان دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں، تاہم دھمکیاں موصول ہونے کے بعد انھوں نے 11 دسمبر کو دہلی کے مندر مرگ پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کروادی تھی.این ڈی ٹی وی کے مطابق داو¿د ابراہیم، ہندوستانی حکام کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ، بھتہ خوری اور قتل کے مقدمات میں مطلوب ہے۔اس کے علاوہ ان پر شدت پسند گروپوں کو رقم فراہم کرنے اور 1993 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا بھی الزام ہے جس میں 257 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔