- الإعلانات -

فرانس کا ایمرجنسی قوانین بنانے پر غور

پیرس: فرانس کی کابینہ نے گذشتہ ماہ پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی کو باقاعدہ طور پر آئین کا حصہ بنانے کے لیے غور شروع کردیا ہے جبکہ دائیں بازو کی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔اسٹیٹ ایمرجنسی کے تحت خصوصی اختیارات میں گھر پر نظر بندی اور جج کی اجازت کے بغیر کسی بھی گھر کی تلاشی کی اجازت حاصل ہوگی تاہم انھیں آئینی عدالت میں چیلنچ کیا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ پیرس حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت کے بعد فرانس کے صدر فرانسکو ہولاندے نے ایمرجنسی کے اختیارات کو آئین میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔وزراء سے ملاقات کے بعد فرانسیسی وزیراعظم مینیوئل والس نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس سے قبل یہ خطرہ اس قدر شدید نہیں تھا‘۔انھوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک جنگ کا سامنا ہے، یہ جنگ دہشت گردی، جہادیوں اور بنیاد پرست اسلام کے خلاف ہے‘۔واضح رہے کہ آئینی اصلاحات کو قانون کا حصہ بنانے کے لیے اس کی حمایت میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں سے پانچ تہائی ووٹ درکار ہوگے، جس پر بحث کا آغاز 3 فروری سے ہونے جارہا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب تک حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق عراق اور شام میں عسکریت پسندوں میں شمولیت کے لیے 1000 افراد فرانس سے جاچکے ہیں جن میں 148 ہلاک جبکہ 250 واپس آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ انتہا پسندانہ ذہنیت کے افراد مختلف ممالک سے داعش میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر فرانسیسی زبان بولنے والے ہیں اور یہ دہشت گرد گروپ زبان کے ذریعے ہماری زمین پر دہشت گردوں کو تیار اور ان کو ٹریننگ فراہم کررہے ہیں۔وزیر انصاف کرسٹین توباریہ کی جانب سے شہریت کی دفعہ پر شکوک و شبہات اٹھائے جانے اور غلط ہونے کی صورت میں اسے چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم صدر کی جانب سے اسے مسترد کردیا گیا۔صحافیو کی جانب سے وزیر کے حوالے سے کئے جانے والے سوال پر فرانسیسی وزیراعظم مینیوئل والس کا کہنا تھا کہ ’ہر کسی کو شکوک و شبہات اور ان کے سوالات کا حق ہے‘۔پولیس کے چھاپوں، غلط شناخت اور وہ اپنے گھر میں نظربند رکھا جانے کے باعث نوکریوں سے بے دخل کیے جانے پر سول حقوق کے گروپوں نے تنقید کی ہے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ آئینی اصلاحات کے اقدامات ’انتہائی پریشان کن‘ ہے اور ’پہلے وسیع اور کبھی کبھی زیادہ خطرناک ہتھیار‘ کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔گروپ کی یورپی ڈائریکٹر گوری وان گولک کا کہنا ہے کہ ’حکومت قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرسکتی،جن میں اظہار رائے کی آزادی ، نقل و حرکت اور غیر امتیازی سلوک شامل ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ 13 نومبر کے حملوں کے بعد سے اب تک 3000 چھاپے مارے گئے ہیں جن میں 360 افراد کو گھروں پر نظر بند اور دیگر 51 افراد کو جیل بھیجا گیا ہے۔خیال رہے کہ ماحول کے حوالے سے کام کرنے والے رضاکاروں کی جانب سے گھر پر نظر بندی کو چلینچ کیا گیا تھا، جس پر عدالت کا کہنا ہے کہ ہنگامی قوانین کے تحت اس کی اجازت دی گئی ہے۔