- الإعلانات -

ہلمند میں امریکا کے فضائی حملے

کابل: امریکا نے اہم افغان صوبے ہلمند کے ضلع سنگین میں طالبان سے نبرد آزما افغان فورسز کی مدد کیلئے فضائی حملے کیے ہیں۔اتوار کو سنگین پر چڑھائی کرنے والے طالبان جنگجوؤں نے پورے ضلع پر کنٹرول کا دعوی کیا ہے۔سنگین سے جانیں بچا کر نکلنے والے مقامی افراد نے بتایا کہ ضلعی مرکز کی جانب پیش قدمی کرنے والے طالبان نے پکڑے جانے والے کئی افغان فوجیوں کو قتل کر دیا ہے۔خدشہ ہے کہ جنوبی ہلمند پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے طالبان پورے صوبے پر قابض ہو سکتے ہیں۔امریکی فوج نے ضلعی مرکز میں پھنسے افغان فوجی دستوں کی مدد کیلئے آنے والی سرکاری فورسز کی مدد کیلئے بدھ کو طالبان ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔نیٹو کے ایک ترجمان نے مختصر بیان میں کہ بتایا کہ امریکا نے سنگین میں دو فضائی حملے کیے۔ادھر، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا کہ ان کے ساتھیوں نے پورے ضلع پر دھاوا بول دیا ہے اور ایک فوجی اڈے میں پھنسے سرکاری فوجیوں کی حالت کافی خستہ ہے۔سنگین کے مقامی پولیس کمانڈر عبدالوہاب نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے اہلکار بھوکے اور پیاسے ہیں۔’کھانے کیلئے باہر نکلنے کا مطلب موت کو دعوت دینا ہے‘۔عبدالوہاب نے لڑائی میں اپنے درجنوں ساتھیوں کی ہلاک اور زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی۔یاد رہے کہ برطانیہ نے منگل کو بتایا کہ تھا اس کے کچھ فوجی کیمپ شروباک پہنچ چکے ہیں۔گزشتہ سال افغان فورسزکی حوالگی سے قبل یہ برطانیہ کا ملک میں سب سے بڑا کیمپ تھا۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ 90اہلکاروں پر مشتمل برطانوی دستہ صرف مشاورتی کردار ادا کر رہا ہے۔