- الإعلانات -

افغانستان مزید امریکی فوج بھیجنے کا امکان موجودہےِ،جان کیمبل

واشنگٹن: افغانستان میں موجود امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل جان کیمبل کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر باراک اوباما سے افغان فورسز کی مدد کیلئے مزید امریکی فوجی دستے بھیجنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔دوسری جانب ایک علیحدہ بیان میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اس وقت تک کے لیے طالبان پر لگائی جانے والی پابندیوں کو اٹھانے کی حمایت نہیں کرے گا جب تک کہ وہ افغان امن مذاکراتی عمل کیلئے اپنا اخلاص ظاہر نہیں کرتے۔جنرل جان کیمبل نے یو ایس اے ٹو ڈے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیکیورٹی چیف کو اپنی تجویز سے آگاہ کرنے کے لیے جلد واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر کے طور پر یہ ان کے کام کا حصہ ہے کہ وہ زمین پر موجود صورت حال کا ’مسلسل جائزہ لیں‘ اور اس کے نتائج سے واشگٹن کو آگاہ کریں۔انھوں نے کہا کہ ’’میں ہر بار صدر سے ملتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ’مجھے فلاح چیز کی ضرورت ہے‘، اور میں خوش قسمت ہوں کے وہ مجھے فراہم بھی کردیتے ہیں، وہ بہت زیادہ نرم میزاج ہیں‘‘۔انھوں نے کہا کہ افغان فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے افغانستان میں 9800 امریکی فوجیوں کی حالیہ موجودگی انتہائی ضروری ہے جبکہ یکم جون 2017 میں فورسز کو کم کرکے ان کی تعداد 5500 پر لانے کو فوری طور پر مؤخر کردیا جانا چاہیے۔جنرل کیمبل کا کہنا تھا کہ وہ نا صرف موجودہ فورسز کی تعداد کو برقرار رکھنے کی درخواست کرے گے تاہم اگر ضرورت محسوس ہوئی تو مزید فوج کو افغانستان بھیجنے کا مطالبہ بھی کرسکتے ہیں۔کانگریس میں ہونے والی حالیہ سماعتوں کے دوران امریکی فوجی اور سفارتی حکام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ افغانستان کی سیکیورٹی صورت حال خراب ہوچکی ہے، جس میں طالبان اور افغان فورسز کی ہلاکتوں اور عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔ادھر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان مارک ٹونر نے ان رپورٹس کو خوش آمدید کہا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ افغان حکام اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے کا آغاز آئندہ ہفتے ہونے جارہا ہے۔خیال رہے کہ افغان امن مذاکراتی عمل کا پہلا مرحلہ رواں سال موسم گرما میں پاکستان کے علاقے مری میں منعقد ہوا تھا۔واضح رہے کہ افغان امن مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلے کی نگرانی پاکستان، چین اور امریکا کرنے جارہے ہیں۔امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’امریکا واضح طور پر افغان قیادت اور افغان ملکیت کے تحت ہونے والے امن عمل کی حمایت کرے گا جو کہ افغانستان میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور افغانستان سمیت خطے کے استحکام کے لیے اہم ترین طریقہ کار ہے‘۔روس کی جانب سے طالبان پر سے پابندیاں اٹھائے جانے کی تجویز پر انھوں نے کہا کہ ’جب تک طالبان افغان امن عمل کا حصہ بننے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے اس وقت تک ہم ان پر موجود بین الاقوامی پابندیوں کو برقرار رکھنے کی حمایت کریں گے‘