- الإعلانات -

بھارت کےدومیجر جنرل رشوت دے کر لیفٹیننٹ جنرل کا عہدے پر فائز

نئی دلی: طاقتور فوج کا دعویٰ کرنے اور پاکستان پر الزامات لگا کر اپنی نااہلی کوچھپانے والی بھارتی فوج میں کرپشن کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا ہے جس میں دومیجر جنرل رشوت دے کر لیفٹیننٹ جنرل کا عہدے لینے میں کامیاب ہوگئے تاہم سوشل میڈیا پر خبر پھیل جانے کے بعد وزارت دفاع نے نہ صرف ان کی ترقی روک دی بلکہ ان کے خلاف تحققیات کا آغاز بھی کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزارت دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع نے ان 2 افسران کے خلاف شکایت کو سی بی آئی  کے حوالے کرتے ہوئے تحقیقات کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کسی بھی سطح پررشوت اور کرپشن کو برداشت نہیں کرے گی جب کہ سی بی آئی نے وزارت دفاع کے احکامات پر تحقیقات کا آغاز کردیا۔

میڈیا رپورٹ  کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں فوج کے اسپیشل پروموشن بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 33 افسران کی لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی کی منظوری دی گئی لیکن اس اجلاس کے کچھ ہی دنوں بعد یہ شکایات اخبارات کی زینت بننے لگیں کہ کچھ افسران نے رشوت دے ایک درجے آگے کے عہدے پر ترقی حاصل کی ہے بلکہ اس کےبعد یہ خبر سوشل میڈیا پر بھی پھیل گئی۔

خبر کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے بعد وزیر دفاع نے خود اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے تحقیقات کیں جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ان دو افسران میں سے ایک افسر 2 سال قبل بھی کرپشن کے الزامات میں سی بی آئی کی انکوائری کا سامنا کرچکا ہے تاہم اس وقت مناسب اور ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچ گیا تھا اور سی بی آئی نے معاملہ فوج کے سپرد کردیا تاہم فوج نے بھی اس معاملے پر خاص تحقیقات نہیں کیں۔ اسی دوران اس افسر کو ڈسپلن اور ویجیلنس کلیرئنس مل گئی اور اسے نئے عہدوں پر ترقی دے دی گئی جس پر میڈیا میں خبریں آنا شروع ہوگئیں تب جاکر وزارت دفاع نے معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔